LIVE
Loading Breaking News...

گلوریا سٹینم کا 92 سال کی عمر میں انتقال، فیمنسٹ تحریک کا بڑا نقصان

News Image
خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی معروف امریکی کارکن اور صحافی گلوریا سٹینم 92 برس کی عمر میں نیویارک میں انتقال کر گئی ہیں۔ ان کی فاؤنڈیشن کے مطابق وہ اپنے گھر میں پرامن طریقے سے دنیا سے رخصت ہوئیں۔
خواتین کے حقوق کے لیے دنیا بھر میں نمایاں مقام رکھنے والی معروف امریکی فیمنسٹ کارکن، مصنفہ اور صحافی گلوریا سٹینم 92 برس کی عمر میں انتقال کر گئی ہیں۔ ان کی فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری کردہ بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ وہ نیویارک شہر میں اپنے گھر میں پرامن انداز میں انتقال کر گئیں۔ اپنے آخری وقت میں وہ ان تمام لوگوں کے درمیان تھیں جو ان سے محبت کرتے تھے اور ان کی زندگی کے کام کا احترام کرتے تھے۔ گلوریا سٹینم کی وفات سے فیمنسٹ تحریک کو ایک بہت بڑا نقصان پہنچا ہے کیونکہ انہوں نے اپنی پوری زندگی صنفی مساوات اور خواتین کے حقوق کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ گلوریا سٹینم 1960 اور 1970 کی دہائی میں امریکہ میں ہونے والی دوسری لہر کی فیمنسٹ تحریک کی مرکزی شخصیات میں شامل تھیں۔ انہوں نے مس سوسائٹی میگزین کی مشترکہ بنیاد رکھی اور صحافت کے شعبے کے ذریعے معاشرے میں خواتین کے مسائل کو اجاگر کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کی تحریروں اور تقاریر نے لاکھوں خواتین کو اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کی تحریک دی۔ انہوں نے روایتی معاشرتی اقدار کو چیلنج کیا اور کام کی جگہوں پر خواتین کے ساتھ ہونے والی امتیازی سلوک کے خلاف بھرپور مہم چلائی۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں متعدد قومی اور بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا۔ گلوریا سٹینم نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا میں خواتین کی آزادی اور برابری کی علامت بن چکی تھیں۔ ان کی زندگی کا مقصد انسانی حقوق بالخصوص خواتین کے مساوی مواقع کے حصول کے لیے جدوجہد کرنا تھا۔ ان کے انتقال پر دنیا بھر سے سیاسی رہنماؤں، صحافیوں اور فیمنسٹ تنظیموں کی جانب سے گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ گلوریا سٹینم کی میراث آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔ ان کے کام نے قانون سازی، ثقافت اور سماجی رویوں میں اہم تبدیلیاں لانے میں مدد دی۔ ان کی فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ گلوریا کی بتائی ہوئی اقدار اور مساوات کا پیغام ہمیشہ زندہ رہے گا اور دنیا بھر میں فیمنسٹ تحریک کے کارکن ان کے ادھورے مشن کو آگے بڑھاتے رہیں گے۔