LIVE
Loading Breaking News...

گلوریا سٹینم اور خواتین کے حقوق کی تحریک کی تاریخ

News Image
نامور فیمنسٹ کارکن گلوریا سٹینم نے خواتین کے حقوق، مساوی اجرت اور اسقاط حمل کی قانونی حیثیت کے لیے تاریخی جدوجہد کی۔ ان کی اس طویل اور بااثر سرگرمی نے دنیا بھر میں لاکھوں خواتین کی زندگیوں پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
گلوریا سٹینم کو دنیا بھر میں فیمینسٹ تحریک کی ایک انتہائی توانا اور بااثر آواز مانا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ خواتین کے حقوق کے تحفظ اور ان کی سماجی و قانونی حیثیت کو بہتر بنانے کے لیے وقف کر دیا۔ ان کی طویل اور مسلسل جدوجہد نے دنیا بھر میں آنے والی نسلوں کی خواتین کے لیے نئے راستے کھولے اور انہیں اپنے حقوق کے حصول کے لیے آواز اٹھانے کی جرات دی۔ سٹینم نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ معاشرے میں مرد اور عورت کو برابر کے مواقع ملنے چاہئیں اور کسی بھی بنیاد پر امتیاز نہیں برتا جانا چاہیے۔ اپنی سرگرمیوں کے دوران گلوریا سٹینم نے کئی اہم اور حساس موضوعات پر کھل کر بات کی، جن میں اسقاط حمل کی قانونی حیثیت، ہم جنس شادیوں کی حمایت اور خواتین کے لیے مساوی اجرت جیسے بڑے مطالبات سر فہرست تھے۔ ان کا موقف تھا کہ خواتین کی مالی خود مختاری اور اپنے جسم کے بارے میں فیصلے کرنے کا حق بنیادی انسانی حقوق کا حصہ ہیں۔ ان کے ان خیالات نے روایتی سوچ رکھنے والے حلقوں میں شدید بحث کو جنم دیا اور انہیں متعدد محاذوں پر سخت ردعمل کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ اس کے باوجود، گلوریا سٹینم نے کبھی پیچھے قدم نہیں ہٹایا اور اپنے مؤقف پر ڈٹی رہیں۔ ان کی فکری بیداری اور تحریروں نے امریکہ سمیت دنیا بھر کی خواتین کو منظم ہونے اور اپنے حقوق کے لیے اجتماعی آواز اٹھانے کی ترغیب دی۔ انہوں نے میگزین کی ادارت اور مختلف فورمز کے ذریعے صنفی ناانصافیوں کو بے نقاب کیا اور قانون سازی میں تبدیلیوں کے لیے حکومتی سطح پر دباؤ ڈالا۔ آج بھی ان کا کام دنیا بھر کے فیمینسٹ کارکنوں کے لیے ایک مینارِ نور کی حیثیت رکھتا ہے۔