LIVE
Loading Breaking News...

افریقہ میں جننانگ چوری کے الزامات اور سوشل میڈیا کا کردار

News Image
بی بی سی کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق افریقی ممالک میں جننانگ چوری کے بے بنیاد الزامات کے بعد ہونے والے ہجوم کے تشدد میں اسی سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس لہر کو پھیلانے میں سوشل میڈیا کا منفی کردار سب سے اہم ثابت ہو رہا ہے جہاں افواہیں جنگ کی طرح پھیلتی ہیں۔
بی بی سی کی جانب سے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق افریقہ کے چھ مختلف ممالک میں جننانگ یا عضو تناسل کی چوری جیسے بے بنیاد اور توہم پرست الزامات کے نتیجے میں ہونے والے پُرتشدد واقعات میں اسی سے زائد افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ یہ تشویشناک صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کس طرح پرانی توہم پرستی اب جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ مل کر جان لیوا ثابت ہو رہی ہے اور معاشرے میں خوف و ہراس پھیلانے کا ذریعہ بن رہی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان پُرتشدد ہلاکتوں کے پیچھے سوشل میڈیا کا کردار انتہائی منفی اور محرک رہا ہے جہاں بغیر تصدیق کے پھیلائی جانے والی افواہوں نے منٹوں میں ہجوم کو اشتعال دلایا۔ تحقیق کے مطابق اس طرح کے الزامات عموماً دیہی یا نیم شہری علاقوں میں اچانک پنپتے ہیں جہاں لوگ پہلے ہی مختلف سماجی اور اقتصادی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔ جب سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر یہ جھوٹی خبریں وائرل ہوتی ہیں کہ فلاں شخص نے کسی کا عضو تناسل جادو یا دیگر طریقوں سے غائب کر دیا ہے، تو عام لوگ بغیر سوچے سمجهے قانون اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔ اس قسم کی افواہوں کی زد میں زیادہ تر وہ نادان افراد آتے ہیں جو باہر سے اس علاقے میں آئے ہوں یا جنہیں مقامی لوگ نہ جانتے ہوں۔ پولیس اور مقامی انتظامیہ کے لیے بھی اس طرح کے اچانک پھوٹ پڑنے والے ہجوم کے تشدد کو روکنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے کیونکہ افواہیں آگ کی طرح پھیلتی ہیں۔ ماہرینِ نفسیات اور ڈیجیٹل میڈیا کے محققین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیاں اس قسم کے مواد کی روک تھام میں ناکام ثابت ہو رہی ہیں جو نفرت اور تشدد کو جنم دیتا ہے۔ افریقی معاشروں میں اس طرح کے توہم پرست نظریات کی جڑیں گہری ہیں لیکن ڈیجیٹل دور نے ان کی ہلاکت خیز صلاحیت میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ نہ صرف روایتی قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک ہوں بلکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بھی ایسی گمراہ کن اور جان لیوا افواہوں کے خلاف سخت ترین اقدامات کیے جائیں تاکہ مزید بے گناہ انسانوں کی جانیں بچائی جا سکیں۔