World
جزائر کناری کے قریب کشتی کا حادثہ، اسی سے زائد تارکین وطن لاپتہ اور ہلاک
جزائر کناری کے قریب سمندر میں تارکین وطن کی ایک کشتی کو حادثہ پیش آیا ہے جس میں اسی سے زائد افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ریسکیو اہلکاروں نے اس واقعے کے دوران چونتالیس زندہ بچ جانے والوں کو بحفاظت نکال لیا ہے۔
بحیرہ اوقیانوس میں جزائر کناری کے قریب تارکین وطن کو لے جانے والی ایک کشتی کو شدید موسمی حالات کی وجہ سے خوفناک حادثے کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے نتیجے میں اسی سے زائد افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اس دلخراش واقعے نے ایک بار پھر تارکین وطن کے خطرناک سمندری سفر اور اس سے جڑے جانی خطرات کو دنیا کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ عالمی میڈیا اور امدادی تنظیموں کے مطابق سمندر میں مشکلات کا شکار ہونے والی اس کشتی سے امدادی کارکنوں نے کارروائی کرتے ہوئے مجموعی طور پر چونتالیس زندہ افراد کو تلاش کر کے بچا لیا ہے جنہیں ابتدائی طبی امداد دی جا رہی ہے۔ تاہم خراب موسمی حالات اور تیز ہواؤں کے باعث ریسکیو آپریشن میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ سے امدادی ٹیمیں پانچ لاشوں کو وہیں چھوڑنے پر مجبور ہو گئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والی کشتی پر گنجائش سے کہیں زیادہ افراد سوار تھے اور طوفانی لہروں نے اس چھوٹی سی کشتی کو سنبھالنے کا موقع نہیں دیا۔ بحیرہ اوقیانوس کے اس راستے کو افریقہ سے یورپ جانے والے تارکین وطن کے لیے سب سے خطرناک اور جان لیوا ترین راستوں میں شمار کیا جاتا ہے جہاں ہر سال سینکڑوں افراد بہتر مستقبل کی تلاش میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ مقامی انتظامیہ اور امدادی اداروں نے اس تازہ ترین المیے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور لاپتہ ہونے والے افراد کی تلاش کے لیے سمندری حدود میں سرچ آپریشن تاحال جاری رکھا ہوا ہے تاکہ ممکنہ طور پر مزید زندہ بچ جانے والوں یا لاشوں کو نکالا جا سکے، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ باقی ماندہ افراد کے بھی زندہ بچنے کی امیدیں دم توڑتی جا رہی ہیں۔