World
ہسپانوی وزیر اعظم کا سیوطہ بحران اور حکومت مخالف مظاہروں پر سخت مؤقف
ہسپانوی وزیر اعظم نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے سیوطہ بحران سے متعلق پیشگی اطلاعات کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے اس تاثر کو مضحکہ خیز قرار دیا کہ حکومت کو صورتحال کا علم تھا اور اس نے جان بوجھ کر کوئی قدم نہیں اٹھایا۔
ہسپانوی وزیر اعظم نے پارلیمنٹ کے ایوان میں سخت گیر مؤقف اپناتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ ملک کو سیوطہ کے مقام پر پیش آنے والے حالیہ بحران کے حوالے سے کسی قسم کی کوئی پیشگی وارننگ موصول نہیں ہوئی تھی۔ انہوں نے ان تمام الزامات کو بے بنیاد اور مضحکہ خیز قرار دیا جن میں یہ کہا جا رہا تھا کہ حکومت کو اس صورتحال کا مکمل علم تھا اور اس کے باوجود جان بوجھ کر کوئی پیشگی اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔ یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسپین کے مختلف شہروں میں ہزاروں افراد نے سڑکوں پر نکل کر بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے اور حکومت کی پالیسیوں پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ ہسپانوی شہروں میں ہونے والے ان مظاہروں نے ملکی سیاسی منظر نامے کو گرما دیا ہے، جہاں حزب اختلاف کی جماعتیں موجودہ انتظامیہ پر نا اہلی اور بحران سے نمٹنے میں ناکامی کا الزام عائد کر رہی ہیں۔ وزیر اعظم نے پارلیمانی اجلاس کے دوران ان تمام تنقیدوں کا دوٹوک الفاظ میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ہمیشہ قومی مفاد اور سلامتی کو مقدم رکھا ہے اور بحران کے دوران تمام ضروری قانونی اور عملی اقدامات وقت پر بروئے کار لائے گئے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اسپین کی سرحدوں کی حفاظت اور داخلی سلامتی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس معاملے پر کسی بھی قسم کی کوتاہی یا غفلت کا الزام دہرانا سراسر حقائق کے منافی ہے۔ ادھر سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سیوطہ بحران اور اس کے بعد ہونے والے عوامی مظاہروں نے موجودہ حکومت کے لیے سیاسی دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے، جس سے آنے والے دنوں میں ملکی سیاست میں مزید گرما گرمی دیکھنے میں آ سکتی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اس محاذ آرائی نے عامتہ الناس کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کروا لی ہے جبکہ انتظامیہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے مزید حکمت عملی تیار کرنے میں مصروف عمل ہے۔