World
تونس میں صدر قیس سعید کا معاشی تجربہ ناکام، بحران میں اضافہ
تونس کے صدر قیس سعید کا خود کفالت کا معاشی وژن ملک کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہو گیا ہے۔ اس تجربے سے تونس کا معاشی بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے اور عوامی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔
تونس کے صدر قیس سعید کی جانب سے خود کفالت اور بیرونی امداد پر انحصار کم کرنے کے لیے شروع کیا جانے والا معاشی تجربہ ملک کو کسی بہتری کی طرف لے جانے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس پالیسی سے معاشی بحران میں کمی آنے کے بجائے مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے، جس نے ملک کو اندرونی طور پر بڑے چیلنجز سے دوچار کر دیا ہے۔ صدر قیس سعید نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ملکی معیشت کو اندرونی وسائل پر استوار کرنے اور غیر ملکی قرضوں سے چھٹکارا پانے کے جو بلند بانگ دعوے کیے تھے، وہ زمینی حقائق کے برعکس ثابت ہوئے۔ ملک میں مہنگائی کی شرح میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے اور بنیادی اشیائے ضروریہ کی قلت نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومتی پالیسیوں میں تسلسل اور شفافیت کی کمی کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں ماند پڑ چکی ہیں اور غیر ملکی سرمایہ کاری کا توازن بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ تعاون میں تعطل اور اصلاحات کے فقدان کی وجہ سے تونس کی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حکومت کی طرف سے دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ ملکی وسائل پر انحصار بڑھا کر معیشت کو مستحکم کیا جائے گا، لیکن عملی طور پر صنعتی پیداوار گر چکی ہے اور بے روزگاری میں ریکارڈ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تونس کے عوام ان معاشی حالات کی وجہ سے شدید پریشانی کا شکار ہیں کیونکہ روزمرہ کے اخراجات پورے کرنا عام شہریوں کے لیے ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ سیاسی اور معاشی تجزیہ کاروں کا یہ ماننا ہے کہ اگر فوری طور پر سنجیدہ اور جامع معاشی اصلاحات کا آغاز نہ کیا گیا اور پالیسیوں میں لچک پیدا نہ کی گئی، تو تونس کا یہ معاشی بحران مزید تباہ کن شکل اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات پورے خطے کی سلامتی اور معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔