LIVE
Loading Breaking News...

گلوریا اسٹینم کا 92 برس کی عمر میں انتقال، حقوق نسواں کی دنیا سوگوار

News Image
گلوریا اسٹینم نے اپنی پوری زندگی خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی اور وہ مس میگزین کی شریک بانی تھیں۔ ان کی وفات پر دنیا بھر سے خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔
عالمی سطح پر خواتین کے حقوق کی تحریک کی سب سے توانا اور جانی پہچانی آواز، نامور امریکی صحافی اور حقوق نسواں کی علمبردار گلوریا اسٹینم 92 برس کی عمر میں انتقال کر گئی ہیں۔ ان کی موت کی خبر نے دنیا بھر میں موجود ان کے چاہنے والوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو غمزدہ کر دیا ہے۔ گلوریا اسٹینم نے اپنی طویل اور فعال زندگی کا بیشتر حصہ عورتوں کے مساوی حقوق، معاشرتی انصاف اور جنسی برابری کے حصول کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ ان کی خدمات نے بیسویں صدی کی دوسری نصف میں عالمی سیاست اور سماجی سوچ پر گہرے نقوش چھوڑے۔ اپنے دور میں انہوں نے دقیانوسی روایات کے خلاف بھرپور مہم چلائی اور خواتین کو ان کے بنیادی حقوق کے بارے میں بیدار کیا۔ اپنے کیریئر کے دوران انہوں نے کئی تاریخی کارنامے انجام دیے، جن میں نمایاں ترین کارنامہ 'مس میگزین' (Ms. Magazine) کی بنیاد رکھنا تھا۔ یہ میگزین خواتین کے مسائل پر کھل کر بات کرنے اور ان کے نقطہ نظر کو اجاگر کرنے والا پہلا بڑا پلیٹ فارم ثابت ہوا۔ اس جریدے کے ذریعے انہوں نے لاکھوں خواتین کو اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کی تحریک دی۔ ان کی تحریریں اور تقاریر آج بھی دنیا بھر میں صنفی مساوات کے حامیوں کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کے انتقال پر دنیا بھر کے سیاسی رہنماؤں، سماجی کارکنوں اور صحافیوں کی طرف سے گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ خراج تحسین پیش کرنے والوں کا کہنا ہے کہ گلوریا اسٹینم نے خواتین کے حقوق کی جدوجہد کو جو رفتار دی اور جس جرات کے ساتھ معاشرتی ناانصافیوں کے خلاف بات کی، وہ تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ ان کی رحلت سے فیمینسٹ تحریک ایک عظیم رہنما سے محروم ہو گئی ہے، مگر ان کے نظریات آنے والی نسلوں کو ہمیشہ راہ دکھاتے رہیں گے۔