Pakistan
خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 15 دہشت گرد ہلاک
سکیورٹی فورسز نے پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں افغان سرحد کے قریب ایک کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران کم از کم 15 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا۔ کارروائی کے دوران عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو بھی کامیابی سے تباہ کر دیا گیا۔
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں افغان سرحد کے قریب سکیورٹی فورسز نے ایک اہم اور کامیاب کارروائی کے دوران کم از کم 15 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ یہ کارروائی ملک میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور دہشت گردی کے خطرات کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کا حصہ ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق، یہ آپریشن انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کیا گیا تھا جس کا مقصد سرحد پار سے دراندازی اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کو روکنا تھا۔
آپریشن کے دوران سکیورٹی اہلکاروں اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں عسکریت پسندوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مارے جانے والے دہشت گرد سکیورٹی فورسز کے خلاف متعدد تخریبی کارروائیوں میں ملوث تھے اور علاقے میں مزید حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ کارروائی کے اختتام پر علاقے میں کلیئرنس آپریشن بھی شروع کر دیا گیا تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔
حالیہ مہینوں میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے جواب میں پاکستانی سکیورٹی فورسز نے اپنی کارروائیوں میں نمایاں تیزی کر دی ہے۔ حکومت اور عسکری قیادت کا عزم ہے کہ ملک سے دہشت گردی کے ناسور کو مکمل طور پر ختم کیا جائے گا اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
علاقے کے مکینوں نے سکیورٹی فورسز کی اس کارروائی کو سراہتے ہوئے امن کے قیام کے لیے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، سرحد کے قریب اس قسم کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز عسکریت پسندوں کی کمر توڑنے اور ملک کی اندرونی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔