LIVE
Loading Breaking News...

مکھی کا دماغ اور انسانی رویے: ایک نئی سائنسی تحقیق

News Image
سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ نر اور مادہ مکھیوں کے دماغ کا موازنہ انسانی رویوں اور جینز کے اثرات کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس تحقیق سے جینیاتی اور حیاتیاتی علوم میں انقلابی تبدیلیاں متوقع ہیں۔
سائنسی دنیا میں یہ بات ہمیشہ سے بحث کا موضوع رہی ہے کہ انسانی رویے اور جینیاتی خصوصیات کس طرح ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ حالیہ سائنسی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ معمولی سمجھے جانے والے کیڑے مکوڑے، بالخصوص مکھیاں، انسانی نفسیات اور حیاتیاتی ساخت کو سمجھنے میں ایک بڑی کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ محققین اب نر اور مادہ مکھیوں کے دماغ کے ڈھانچے اور ان کے افعال کا باریک بینی سے موازنہ کر رہے ہیں تاکہ یہ جانا جا سکے کہ جینز کس طرح مختلف جانداروں میں رویے کی تشکیل کرتے ہیں۔ اس تحقیق کا بنیادی مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ آیا یہی اصول انسانوں پر بھی لاگو ہوتے ہیں یا نہیں۔ یہ مطالعہ نہ صرف نیورو سائنس کے شعبے میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے بلکہ یہ انسانی رویوں کے پس منظر میں چھپے جینیاتی رازوں سے بھی پردہ اٹھائے گا۔ ماضی میں بھی جانوروں اور حشرات پر کی جانے والی تحقیقات نے انسانی طب اور نفسیات میں نمایاں پیش رفت کی راہ ہموار کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مکھیوں کے اعصابی نظام کا مطالعہ اس بات کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے کہ کس طرح حیاتیاتی عوامل جنس کی بنیاد پر رویے میں فرق پیدا کرتے ہیں۔ جب سائنسدان اس بات کا تعین کر لیں گے کہ جینز رویے کو کس طرح کنٹرول کرتے ہیں، تو مستقبل میں کئی نفسیاتی اور جینیاتی امراض کے علاج کے لیے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔ اس تحقیق کی روشنی میں انسانوں اور دیگر جانداروں کے مابین مشترکہ جینیاتی خصوصیات پر بھی نئی روشنی ڈالی جا رہی ہے، جس سے آنے والے دنوں میں سائنسی حلقوں میں مزید اہم انکشافات کی توقع کی جا رہی ہے۔