LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ کی پہلی روبوٹ ٹیکسی: بی بی سی کا سفر اور فیچرز

News Image
بی بی سی کی صحافی زو کلینمین نے برطانیہ میں لانچ ہونے والی اوبر کی پہلی سیلف ڈرائیونگ روبوٹ ٹیکسی کا سفر کیا۔ یہ جدید ترین سروس جمعرات کے روز سے باضابطہ طور پر شروع کی جا رہی ہے۔
برطانیہ میں ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اور بڑا سنگ میل عبور کرتے ہوئے جمعرات کے روز سے سیلف ڈرائیونگ روبوٹ ٹیکسی سروس کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس نئی اور انقلابی ٹیکنالوجی نے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ہلچل مچا دی ہے اور دنیا بھر کے ماہرین کی توجہ اس جانب مبذول ہو چکی ہے۔ اس حوالے سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، اس نئی سروس کو عام عوام اور مسافروں کے لیے انتہائی محفوظ اور جدید خطوط پر استوار کیا گیا ہے تاکہ سفر کو مزید آسان بنایا جا سکے۔ بی بی سی کی معروف ٹیک رپورٹر زو کلینمین نے اس تاریخی موقع پر برطانیہ میں اوبر کی پہلی سیلف ڈرائیونگ روبوٹ ٹیکسی میں بیٹھ کر اس کا ذاتی تجربہ کیا۔ اپنے اس تجربے کے دوران انہوں نے گاڑی کے اندرونی سسٹمز، سینسرز اور روڈ سیفٹی کے اقدامات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بغیر ڈرائیور کے سڑک پر سفر کرنا بلاشبہ ایک سنسنی خیز اور مستقبل کی دنیا کا منظر پیش کرتا ہے، جہاں انسان کی بجائے مصنوعی ذہانت اور جدید کیمرے گاڑی کو کنٹرول کرتے ہیں۔ اس روبوٹ ٹیکسی میں جدید ترین آرٹیفیشل انٹیلی جنس، لیڈار (LiDAR) سسٹمز اور طاقتور کیمرے نصب کیے گئے ہیں جو قریبی ٹریفک، پیدل چلنے والوں اور سڑک کے سائن بورڈز کو انتہائی درستگی کے ساتھ مانیٹر کرتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کی خودکار سواریوں کے آنے سے نہ صرف روڈ سحادثات میں کمی واقع ہوگی بلکہ ٹریفک کے نظام میں بھی نمایاں بہتری آئے گی، کیونکہ کمپیوٹر انسانی غلطیوں سے مبرا ہو کر فیصلے کرتا ہے۔ برطانیہ میں اس سروس کے آغاز کو مستقبل کے ٹرانسپورٹیشن سسٹم کی طرف ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ ابتدائی طور پر اسے مخصوص روٹس اور محدود علاقوں میں چلایا جا رہا ہے، لیکن آنے والے دنوں میں اس کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے کا ارادہ ہے۔ مسافروں اور ٹیکنالوجی کے شوقین افراد کی طرف سے اس نئی روبوٹ ٹیکسی سروس کو بے حد پسند کیا جا رہا ہے اور یہ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے برسوں میں دنیا کے دیگر ممالک میں بھی اس طرح کی خودکار ٹیکسیوں کا رجحان تیزی سے بڑھے گا۔