LIVE
Loading Breaking News...

غزہ بحران: ڈینٹسٹ سڑکوں پر دانتوں کا علاج کرنے پر مجبور

News Image
غزہ میں شدید وسائل کی کمی اور دفتری جگہ نہ ہونے کی وجہ سے دانتوں کا علاج عام شہریوں کے لیے ایک ناممکن خواب بن گیا ہے۔ اسرائیلی محاصرے کے باعث ڈینٹسٹ مجبورا سڑکوں پر ہی مریضوں کے دانتوں کا علاج کرنے پر مجبور ہیں۔
غزہ میں جاری شدید محاصرے اور انسانی بحران نے زندگی کے ہر شعبے کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے، جہاں اب طبی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث ڈاکٹرز سڑکوں پر علاج کرنے پر مجبور ہیں۔ ذرائع کے مطابق غزہ میں ادویات، طبی آلات اور مناسب جگہ کی شدید کمی کے باعث دانتوں کا علاج عام شہریوں کے لیے ایک ایسا پرتعیش خواب بن چکا ہے جو عام حالات میں انتہائی بنیادی ضرورت سمجھا جاتا ہے۔ اسرائیلی پابندیوں کی وجہ سے طبی سامان کی رسائی نہ ہونے سے ڈینٹسٹ انتہائی کسمپرسی کی حالت میں اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ موجودہ جنگی صورتحال اور اسپتالوں پر ہونے والے حملوں کے بعد بہت سے دندان سازوں کے اپنے کلینکس یا تو تباہ ہو چکے ہیں یا پھر وہاں بجلی اور پانی کی عدم فراہمی کی وجہ سے کام کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔ ایسے دلخراش حالات میں بھی ان طبی ماہرین نے ہم نہیں ہاری اور وہ سڑکوں، کھلے آسمان تلے یا عارضی کیمپوں کے باہر مریضوں کے دانتوں کا درد دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے پاس نہ تو جدید مشینری ہے اور نہ ہی انفیکشن سے بچاؤ کے وہ تمام وسائل جو ایک کلینک میں ہونے چاہئیں، لیکن اس کے باوجود انسانیت کی خدمت کا یہ جذبہ جاری ہے۔ شہریوں کی ایک بڑی تعداد دانتوں کے شدید امراض میں مبتلا ہے کیونکہ خوراک کی قلت اور صاف پانی نہ ملنے کی وجہ سے صحت کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ تاہم، درد سے تڑپتے ہوئے ان مریضوں کے پاس سڑکوں پر بیٹھ کر ان ڈینٹسٹ سے علاج کرانے کے سوا کوئی اور چارہ نہیں۔ بین الاقوامی سطح پر طبی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے غزہ میں فوری طور پر طبی امداد پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اس طرح کی بنیادی طبی خدمات کو بحال کیا جا سکے اور عام شہریوں کی تکالیف میں کمی لائی جا سکے، لیکن زمینی حقائق اب بھی انتہائی تشویشناک بنے ہوئے ہیں۔