World
یونیسیف رپورٹ: سالانہ دو کروڑ بچے آن لائن جنسی استحصال کا نشانہ
اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق بارہ سے سترہ سال کی عمر کے بیس ملین سے زائد بچے سالانہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر استحصال کا سامنا کرتے ہیں۔ ماہرین نے والدین اور اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ بچوں کی آن لائن سکیورٹی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسیف نے ایک تشویشناک رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال دو کروڑ سے زائد بچے آن لائن جنسی استحصال کا شکار بنتے ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ بارہ سے سترہ سال کی عمر کے درمیان کے بچوں میں سے پانچ میں سے ایک سے زائد بچہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اس نوعیت کے حملوں یا ہراسانی کا نشانہ بنتا ہے۔ یہ اعداد و شمار ڈیجیٹل دنیا میں بچوں کی حفاظت کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں اور اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ بین الاقوامی سطح پر ہنگامی بنیادوں پر لائحہ عمل تیار کیا جائے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ انٹرنیٹ اور سمارٹ فونز کی آسان رسائی نے جہاں تعلیم اور تفریح کے نئے در وا کیے ہیں، وہیں اس نے مجرموں اور استحصال کرنے والوں کے لیے بچوں تک رسائی کو بھی انتہائی آسان بنا دیا ہے۔ سوشل میڈیا ایپس، آن لائن گیمز اور مختلف چیٹ پلیٹ فارمز کو اکثر مجرم بچوں کو پھنسانے اور ان کا استحصال کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ وبائی امراض اور اس کے بعد ڈیجیٹل ذرائع پر انحصار بڑھنے سے اس خطرے میں مزید اضافہ ہوا ہے، جس سے کم عمر طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔
یونیسیف نے دنیا بھر کی حکومتوں، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور والدین پر زور دیا ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔ ٹیکنالوجی کے بڑے اداروں پر لازم ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز پر حفاظتی انتظامات کو سخت کریں اور مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے مشکوک سرگرمیوں کو بروقت روکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، والدین اور اساتذہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو انٹرنیٹ کے محفوظ استعمال سے متعلق آگاہی فراہم کریں تاکہ وہ اس قسم کے خطرات سے محفوظ رہ سکیں۔