LIVE
Loading Breaking News...

آبِ ہرمز میں تیل کی ترسیل اور امریکی دعووں کی حقیقت

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ روزانہ تقریبا تیس بحری جہازوں کو آبی گزرگاہ پار کرنے میں مدد دے رہا ہے۔ تاہم، جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والا ڈیٹا اس دعوے کے برعکس بہت کم تعداد ظاہر کرتا ہے۔
آبِ ہرمز دنیا کی ایک انتہائی اہم اور حساس بحری گزرگاہ ہے جہاں سے تیل کی عالمی تجارت کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ حالیہ دنوں میں اس آبی گزرگاہ سے بحری جہازوں کی آمدورفت اور سکیورٹی کے حوالے سے مختلف اعداد و شمار سامنے آئے ہیں جن پر مبصرین کی طرف سے گہرے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ دنیا بھر کی معیشت کے لیے اس راستے کی اہمیت کے پیش نظر یہاں ہونے والی ہر نقل و حرکت پر عالمی میڈیا اور ماہرین کی گہری نظر رہتی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حال ہی میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکہ اس اہم آبی گزرگاہ سے روزانہ تقریباً تیس بحری جہازوں کو بحفاظت گزرنے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔ یہ بیان اس تناظر میں سامنے آیا ہے کہ خطے میں سکیورٹی خدشات کے باعث تجارتی جہاز رانی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور امریکہ اس کی بحالی کے لیے سرگرم عمل ہے۔ تاہم، جہازوں کی آمدورفت اور سمندری نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے آزاد ذرائع اور ٹریکنگ ڈیٹا نے اس حوالے سے ایک مختلف تصویر پیش کی ہے۔ ٹریکنگ کے شواہد بتاتے ہیں کہ اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں کی اصل تعداد امریکی انتظامیہ کے دعوے کے مقابلے میں کافی کم ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زمینی حقائق اور سرکاری بیانات کے درمیان اس تضاد کی وجہ سکیورٹی پروٹوکولز، ڈیٹا اکٹھا کرنے کے مختلف طریقے یا سیاسی بیانیہ ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال نے بین الاقوامی توانائی کی منڈیوں اور جہاز رانی کے شعبے میں نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ آبِ ہرمز میں ٹریفک کے اصل اعداد و شمار کا درست تعین کرنا عالمی معیشت اور تیل کی سپلائی لائنوں کے تسلسل کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے جو اس بات کا تعین کریں گی کہ حقائق اصل میں کیا ہیں۔