LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت کی صنعت میں تیز رفتار ترقی کا نیا رجحان

News Image
مصنوعی ذہانت کی کمپنیاں ایک بار پھر اپنے ابتدائی دنوں کی طرح جارحانہ حکمت عملی اور کم ضابطہ کاری کی طرف لوٹ رہی ہیں۔ اس رجحان سے تکنیکی ترقی کی رفتار میں اضافے کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی کے حوالے سے بھی شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
مصنوعی ذہانت کی صنعت میں ایک بار پھر وہی پرانا اندازِ فکر واپس آ رہا ہے جسے سلیکن ویلی میں 'تیزی سے کام کرو اور چیزیں توڑو' کے نام سے جانا جاتا تھا۔ بڑی اے آئی کمپنیاں مستقبل کے بڑے دعوے کر رہی ہیں اور اس بات پر یقین رکھتی ہیں کہ ان کی ٹیکنالوجی انسانیت کے مسائل کا حل پیش کرے گی۔ اینتھروپک کے سی ای او ڈاریو اموڈیکی نے پہلے بھی اس بات کا اظہار کیا تھا کہ مصنوعی ذہانت دنیا کو ایک ایسی جگہ بنا سکتی ہے جہاں لوگ خوشی سے آب دیدہ ہو جائیں گے۔ تاہم اس بلند بانگ دعوے کے پیچھے عملی میدان میں حفاظتی اصولوں کو نظر انداز کرنے کے خطرات بھی منڈلا رہے ہیں۔ ماضی میں ٹیکنالوجی کے بڑے اداروں نے بھی اسی فلسفے کے تحت ترقی کی تھی جس کے نتیجے میں کئی سماجی اور اخلاقی مسائل پیدا ہوئے تھے۔ اب مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بھی یہی روش اختیار کی جا رہی ہے جہاں کمپنیاں ضابطہ اخلاق اور حکومتی نگرانی کی پروا کیے بغیر تیزی سے آگے بڑھنا چاہتی ہیں۔ اس دوڑ کا مقصد مارکیٹ میں سب سے آگے رہنا اور سرمایہ کاروں کی توقعات پر پورا اترنا ہے۔ دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی جیسی طاقتور ٹیکنالوجی میں اس قسم کی جلد بازی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر حفاظتی اقدامات کو نظر انداز کیا گیا تو اس کے طویل المدتی نقصانات پوری انسانیت کو اٹھانا پڑ سکتے ہیں۔ اس لیے صنعت کے اندرونی اور بیرونی حلقوں میں اس بات پر بحث شروع ہو چکی ہے کہ کیا ترقی کی رفتار کو برقرار رکھتے ہوئے اخلاقی اقدار کی پاسداری ممکن ہے یا نہیں۔ آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ دنیا بھر کی حکومتیں اس جارحانہ رجحان کو قابو کرنے کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہیں۔