Politics
حکومت اور جماعت اسلامی میں پیٹرولیم لیوی پر مذاکرات اور کمیٹیاں بنانے کا فیصلہ
حکومت اور جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی میں کمی اور مہنگائی کے حوالے سے تجاویز دینے کے لیے مشترکہ کمیٹیاں تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے باوجود جماعت اسلامی نے ملک بھر میں جاری احتجاجی تحریک اور مطالبات کے حق میں دباؤ برقرار رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
اسلام آباد میں حکومت اور جماعت اسلامی کے وفد کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی میں کمی کی سفارشات مرتب کرنے کے لیے مشترکہ کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ٹیکسوں کے بھاری بوجھ کے خلاف جماعت اسلامی کی جانب سے احتجاجی تحریک جاری ہے، اور حالیہ ہڑتال کے بعد دونوں فریقین نے بات چیت کا راستہ اختیار کیا ہے۔ مذاکرات کے دوران ملک کی موجودہ اقتصادی صورتحال اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے حکومت پر واضح کیا کہ مہنگائی اور ظالمانہ ٹیکسوں کی وجہ سے عام آدمی کا جینا محال ہو چکا ہے، اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ناگزیر ہے۔ حکومت کی جانب سے تجاویز کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹیاں بنانے کی حامی بھر لی گئی ہے جو اپنی رپورٹ پیش کریں گی تاکہ عوام کو ریلیف دینے کے ممکنہ اقدامات پر غور کیا جا سکے۔ تاہم، اس بات چیت کے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی نے واضح کیا ہے کہ جب تک عوام کو عملی طور پر ریلیف نہیں ملتا، ان کی احتجاجی تحریک اور دباؤ کا سلسلہ مختلف شکلوں میں جاری رہے گا۔
دوسری جانب ملک کے مختلف شہروں بالخصوص کراچی میں شٹر ڈاؤن ہڑتال اور سڑکوں کی بندش کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔ تاجر برادری اور عوام کی جانب سے مہنگائی اور ٹیکسوں کے خلاف شدید احتجاج ریکارڈ کروایا گیا ہے۔ سیاسی حلقوں میں حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان اس بات چیت کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، لیکن حتمی کامیابی ان کمیٹیوں کی سفارشات اور حکومت کے عملی اقدامات پر منحصر ہوگی۔ عوام کی نظریں اب اس بات پر ہیں کہ آیا یہ مذاکرات محض عارضی ریلیف کا باعث بنتے ہیں یا پھر پالیسی کی سطح پر کوئی بنیادی تبدیلی لائی جاتی ہے۔