World
ایران کے خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر حملے اور اسرائیل کا ردعمل
ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی حمایت پر تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ اسرائیل نے خبردار کیا ہے کہ سخت پابندیاں تہران کو انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کر سکتی ہیں۔ دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ حملوں سے امریکی فوجی تنصیبات کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
مشرق وسطیٰ میں تناؤ ایک بار پھر انتہائی خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے کیونکہ ایران نے خلیجی خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور اتحادی ممالک کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق تہران کی جانب سے یہ کارروائیاں امریکی فوجی حمایت اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں کی گئی ہیں، جس سے خطے کا امن شدید خطرے میں پڑ گیا ہے۔
اس صورتحال پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسرائیل نے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ ایران پر مزید سخت اقتصادی پابندیاں عائد کرنے سے تہران انتہائی اور غیر متوقع اقدامات اٹھا سکتا ہے۔ اسرائیلی حکام کا ماننا ہے کہ دباؤ بڑھنے سے تہران مزید جارحانہ حکمت عملی اختیار کر سکتا ہے، جس کے نتائج پورے خطے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔
ادھر امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے کیے جانے والے ان حملوں کے باوجود امریکی فوجی تنصیبات اور اثاثوں کو کوئی خاطر خواہ نقصان نہیں پہنچا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ حالات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور فوج کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
یہ حالیہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر عالمی رہنماؤں کی طرف سے ایران کو پہلے ہی سخت نتائج کی دھمکیاں دی جا چکی ہیں۔ اس کے باوجود ایران کی جانب سے خلیجی ممالک میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی سیاست میں ایک نیا بحران پیدا کر رہا ہے جس سے عالمی توانائی کی سپلائی لائنز اور معیشت کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔