LIVE
Loading Breaking News...

اقوام متحدہ کی وارننگ: ایل نینو سے شدید گرمی اور زرعی نقصانات کا خطرہ

News Image
اقوام متحدہ کے اداروں نے خبردار کیا ہے کہ ایل نینو کا موسمیاتی رجحان ابھی اپنے عروج پر نہیں پہنچا ہے اور آنے والے مہینوں میں شدید گرمی اور زراعت کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس غیر معمولی موسمی صورتحال کے فروری تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
اقوام متحدہ اور بین الاقوامی موسمیاتی ماہرین نے ایک بار پھر سخت انتباہ جاری کیا ہے کہ دنیا بھر میں تباہی پھیلانے والا موسمیاتی رجحان 'ایل نینو' ابھی اپنے اصل عروج پر نہیں پہنچا ہے۔ ماہرین کے مطابق آنے والے مہینوں میں زمین کا درجہ حرارت مزید بلند ہو سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں شدید ترین گرمی کی لہریں پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہیں۔ اس صورتحال کے باعث بالخصوص زرعی شعبے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا شدید خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں اور موسمیاتی فورکاسٹرز کا کہنا ہے کہ موجودہ ایل نینو کا یہ چکر انتہائی طاقتور اور غیر معمولی نوعیت کا ہے، جو آئندہ برس فروری تک جاری رہنے کی توقع ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں اس کے اثرات پہلے ہی ظاہر ہونا شروع ہو چکے ہیں، جہاں کہیں طویل خشک سالی کا سامنا ہے تو کہیں غیر متوقع بارشیں اور سیلابی ریلے فصلوں کو تباہ کر رہے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک اور خطرے کی زد میں موجود آبادیوں کے لیے یہ صورتحال انتہائی تشویشناک قرار دی جا रही ہے۔ اس موسمیاتی بحران کے نتیجے میں خوراک کی سیکیورٹی پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ گندم، چاول اور دیگر اہم فصلیں شدید گرمی اور پانی کی کمی کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہیں، جس سے مستقبل میں خوراک کی قلت اور مہنگائی میں اضافے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ بین الاقوامی تنظیمیں اور حکومتیں اس آنے والے طوفان سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر تیاریاں کر رہی ہیں تاکہ کمزور طبقات اور خواتین کو اس کے منفی اثرات سے بچایا جا سکے۔