LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان کا تجارتی خسارہ مالی سال کے آغاز میں 18 فیصد بڑھ گیا

News Image
رواں مالی سال کے ابتدائی دو مہینوں میں پاکستان کا تجارتی خسارہ بڑھ کر 7.12 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ تجارتی اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں خسارے میں 18.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ کے دوران پاکستان کے تجارتی خسارے میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک اہم چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، جولائی اور اگست کے مہینوں میں پاکستان کا تجارتی خسارہ 18.1 فیصد اضافے کے ساتھ 7.12 ارب ڈالر تک جا پہنچا۔ یہ صورتحال ملکی برآمدات اور درمیانی درآمدات کے توازن پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ درآمدی بل میں اضافہ اور عالمی منڈی میں اشیائے خوردونوس اور توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اس تجارتی خسارے کے اہم اسباب میں شامل ہیں۔ حکومت کی جانب سے درآمدات کو کنٹرول کرنے اور برآمدات کو فروغ دینے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاہم ابتدائی ماہ کے یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ معاشی استحکام کے لیے مزید سخت اور ہنگامی نوعیت کی پالیسیاں اپنانے کی ضرورت ہے۔ تجارتی خسارے میں اس اضافے سے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر پر بھی دباؤ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ وفاقی ادارہ شماریات اور دیگر متعلقہ معاشی اداروں کی جانب سے جاری کردہ رپورٹس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ صنعتی پیداوار کو بڑھا کر اور برآمدی شعبے کو مراعات دے کر ہی اس خسارے کو قابو میں لایا جا सकता ہے۔ کاروباری برادری اور معاشی تجزیہ کار آنے والے مہینوں میں حکومتی معاشی پالیسیوں اور تجارتی توازن کے حوالے سے گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ ملکی معیشت کو بحران سے نکالا جا سکے۔