Technology
مصنوعی ذہانت پر پابندیاں، مسک اور ہانگ کا خبردار
امریکی ٹیکنالوجی کے سرکردہ رہنماؤں نے چین کے ساتھ جاری مسابقت کے دوران مصنوعی ذہانت پر کسی بھی قسم کی پابندیاں عائد کرنے کے خلاف خبردار کیا ہے۔ جی ٹوئنٹی اجلاس کے دوران اس حوالے سے ٹیکنالوجی کی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کی پالیسیوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
امریکہ کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سرکردہ رہنماؤں نے چین کے ساتھ جاری سخت تکنیکی مسابقت کے پیش نظر مصنوعی ذہانت پر کسی بھی قسم کی قدغنیں لگانے کے خلاف شدید خبردار کیا ہے۔ جی ٹوئنٹی اجلاس کے موقع پر سامنے آنے والے بیانات میں کہا گیا ہے کہ اس اہم شعبے میں جدت اور ترقی کو روکنے والی پالیسیاں عالمی سطح پر مسابقتی برتری کو متاثر کر سکتی ہیں۔ معروف کاروباری شخصیات کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کے اس نئے دور میں پابندیوں کی بجائے جدت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ جی ٹوئنٹی کے اس سربراہی اجلاس میں تکنیکی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کی پالیسیوں کو مرکزی اہمیت دی گئی۔ دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے مراکز اور ڈیٹا سینٹرز کی بڑھتی ہوئی مانگ کے تناظر میں یورپی یونین کے بعض قواعد و ضوابط پر بھی تنقید کی گئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کی اس دوڑ میں امریکہ اور چین کے درمیان مقابلہ انتہائی دلچسپ موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں کوئی بھی فریق پیچھے رہنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اجلاس کے دوران مختلف ممالک نے عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کی جدت کے لیے ایک نئے منصوبے پر اتفاق بھی کیا ہے جس میں بھارت سمیت دیگر اہم معیشتوں نے بھی شمولیت اختیار کی ہے۔ اس تمام صورتحال میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ آنے والے وقت میں مصنوعی ذہانت کا شعبہ عالمی سیاست اور معیشت میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گا، اور اس حوالے سے عائد کی جانے والی پالیسیاں پوری دنیا کی ٹیکنالوجی کی سمت کا تعین کریں گی۔