Entertainment
مائیکل شین کا ویلش تاریخ اور اوین گلنڈور پر اظہار خیال
ہالی ووڈ کے معروف اداکار مائیکل شین نے حال ہی میں ویلش کی تاریخ اور شناخت کے حوالے سے اہم خیالات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے شاہی اعزازات اور تاریخ کے پرانے ابواب پر کھل کر بات کی ہے۔
برطانوی اور ہالی ووڈ کے معروف اداکار مائیکل شین نے ایک بار پھر ویلش تاریخ اور ثقافتی شناخت کے حوالے سے کھل کر بات کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اپنے بچپن اور جوانی کے دوران انہیں سکولوں میں باضابطہ طور پر ویلش تاریخ نہیں پڑھائی گئی، جس کی وجہ سے وہ اپنی ہی دھرتی کی اصل تاریخ سے کافی عرصے تک ناآشنا رہے۔ مائیکل شین نے خاص طور پر تاریخی ویلش باغی رہنما اوین گلنڈور (Owain Glyndŵr) کی میراث کو دوبارہ حاصل کرنے اور اسے نئی نسل تک پہنچانے پر زور دیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ویلش عوام کو اپنی تاریخ اور اپنے ہیروز کے بارے میں مکمل آگاہی ہونی چاہئے۔
ایک انٹرویو کے دوران بات کرتے ہوئے مائیکل شین نے پرنس آف ویلز کے اعزازی لقب پر بھی شدید تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ویلز کے عوام سے یہ پوچھا جانا چاہیے کہ آیا وہ واقعی اس لقب کو واپس چاہتے ہیں یا نہیں۔ ان کے نزدیک یہ لقب ویلش عوام کے لیے ایک طرح کی توہین یا دبانے کے مترادف ہے، کیونکہ اس کی تاریخی جڑیں ان کی آزادی کی جدوجہد اور ان کے اپنے روایتی قائدین کے خلاف استعمال ہوتی رہی ہیں۔ اداکار کا مؤقف ہے کہ جدید دور میں ویلش قوم کو اپنی خود مختاری، ثقافت اور تاریخی شخصیات پر فخر ہونا چاہیے نہ کہ ایسے بیرونی علامتی خطابات پر جو عوامی امنگوں کی عکاسی نہ کرتے ہوں۔
مائیکل شین پچھلے کچھ عرصے سے اپنے سیاسی اور سماجی نظریات کی وجہ سے کافی سرگرم رہے ہیں اور وہ فلاحی کاموں کے ساتھ ساتھ ویلز کی ثقافتی آزادی کے لیے بھی آواز اٹھاتے آئے ہیں۔ ان کے ان تازہ بیانات نے ایک بار پھر برطانیہ اور خصوصاً ویلز میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے جہاں لوگ شاہی روایات اور مقامی تاریخ کے درمیان توازن تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ماہرین اور تاریخ دان بھی اس معاملے پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں اور آنے والے دنوں میں اس بحث کے مزید پھیلنے کا امکان ہے۔