LIVE
Loading Breaking News...

لیون بلیک کا ایپسٹین پینل کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ

News Image
امریکی ارب پتی لیون بلیک نے ایوانِ نمائندگان کی نگرانی کمیٹی کے سمن کو عدالت میں چیلنج کر دیا ہے۔ انہوں نے کمیٹی کی جانب سے غیر افشا معاہدات طلب کیے جانے کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔
امریکی ارب پتی اور معروف کاروباری شخصیت لیون بلیک نے امریکی کانگریس کے ایوانِ نمائندگان کی نگرانی کمیٹی (House Oversight Committee) کے جاری کردہ سمن کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے باضابطہ طور پر مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق، کمیٹی نے لیون بلیک کو طلب کرتے ہوئے کچھ اہم غیر افشا معاہدات (NDAs) جمع کرانے کی ہدایت کی تھی، جسے مسٹر بلیک کے وکلاء نے غیر قانونی اور دائرہ اختیار سے باہر قرار دیا ہے۔ انہوں نے موقف اپنایا ہے کہ کمیٹی کا یہ اقدام بلا جواز ہے اور ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ لیون بلیک کی جانب سے دائر کیے گئے اس مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کانگریس کے اراکین کی طرف سے بھیجے گئے سمن کی کوئی قانونی حیثیت نہیں بنتی اور یہ محض سیاسی دباؤ بڑھانے کا ایک حربہ ہے۔ دائر مقدمے کی تفصیلات کے مطابق، کمیٹی جیفری ایپسٹین کے اسکینڈل سے جڑے مالی اور ذاتی معاملات کی تحقیقات کر رہی ہے، اور اسی سلسلے میں لیون بلیک سے بھی بازپرس کی جا رہی ہے۔ تاہم، بلیک کے قانونی مشیروں کا اصرار ہے کہ مانگے گئے دستاویزات کا اس تحقیقات سے کوئی براہِ راست اور جائز تعلق نہیں ہے، لہذا یہ سمن قانون کی نظر میں کالعدم قرار دیے جانے کے مستحق ہیں۔ اس پیش رفت کے بعد واشنگٹن کے سیاسی اور قانونی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے کیونکہ کانگریس کے پینلز اور طاقتور کاروباری شخصیات کے درمیان اس نوعیت کے تصادم کم ہی دیکھنے میں آتے ہیں۔ ماہرینِ قانون کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ امریکی تاریخ میں کانگریس کے اختیارات اور نجی افراد کے حقوق کے درمیان توازن کے حوالے سے ایک اہم قانونی مثال قائم کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں عدالت یہ طے کرے گی کہ آیا نگرانی کمیٹی کا سمن قانونی طور پر نافذ العمل ہے یا پھر لیون بلیک کو اس سے استثنا حاصل ہونا چاہیے۔ دریں اثنا، نگرانی کمیٹی کے ارکان نے تحال اس مقدمے پر کوئی تفصیلی جوابی بیان جاری نہیں کیا ہے، مگر توقع کی جا رہی ہے کہ وہ عدالت میں اس سمن کا بھرپور دفاع کریں گے۔