World
راتکو ملاڈوچ کی میت سربیا منتقل، فوجی اعزازات کے ساتھ استقبال
اقوام متحدہ کی عدالت سے جنگی جرائم پر عمر قید پانے والے راتکو ملاڈوچ کی میت سربیا پہنچ گئی ہے۔ سرب حکام اور رہنماؤں کی جانب سے اس موقع پر فوجی اعزازات دیے جانے پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
بوسنیا کی 1992ء سے 1995ء تک جاری رہنے والی جنگ کے دوران جنگی جرائم اور انسانیت سوز مظالم کے پاداش میں اقوام متحدہ کی خصوصی عدالت سے عمر قید کی سزا پانے والے راتکو ملاڈوچ کی میت سربیا واپس پہنچ گئی ہے۔ سربیا میں ان کی میت کا استقبال فوجی اعزازات کے ساتھ کیا گیا جس پر بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ راتکو ملاڈوچ کو ماضی میں بلقان کے خطے میں ہونے والے سنگین جرائم کا مرکزی ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔
اقوام متحدہ کے بین الاقوامی فوجداری ٹریبیونل نے راتکو ملاڈوچ کو نسل کشی اور جنگی قوانین کی پامالی کے الزامات میں مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ ان کے دور میں سریبرینیکا کے مقام پر ہزاروں بوسنیائی مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا تھا جسے جدید تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس پس منظر کے باوجود سربیا کے بعض حلقوں اور سرکاری شخصیات کی جانب سے انہیں اس طرح خراج تحسین پیش کرنا اور فوجی اعزاز دینا تنازعات کا شکار ہو گیا ہے۔
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے خطے میں نسلی کشیدگی دوبارہ سر اٹھا سکتی ہے اور ماضی کے زخم تازہ ہو سکتے ہیں۔ یورپی یونین اور دیگر عالمی اداروں نے سربیا پر زور دیا ہے کہ وہ جنگی مجرموں کی تحسین کرنے کے بجائے ماضی کے تلخ حقائق کا اعتراف کرے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے اقدامات کرے۔ دوسری جانب سرب حکام کا اس معاملے پر اپنا الگ موقف ہے جو ملکی سیاست اور عوامی جذبات سے جڑا ہوا ہے۔
ملاڈوچ کی میت کی واپسی اور اس پر ہونے والے سرکاری پروٹوکول نے بلقان کے خطے میں ایک بار پھر سیاسی ہلچل مچا دی ہے۔ متاثرہ خاندانوں اور انسانی حقوق کے حامیوں نے اس عمل کی شدید مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ جنگی جرائم کے مجرموں کے ساتھ کسی بھی قسم کی ہمدردی یا سرکاری اعزاز کی روایت کو ختم کیا جانا چاہیے۔ یہ صورتحال بین الاقوامی سفارت کاری اور خطے کی سلامتی کے تناظر میں انتہائی حساس سمجھی جا رہی ہے۔