LIVE
Loading Breaking News...

نیپال کا موسمیاتی انصاف کے لیے بڑا مطالبہ اور عالمی صورتحال

News Image
نیپال کی وزیر خارجہ نے حالیہ تباہ کن قدرتی آفات کے پیش نظر دنیا کے تین بڑے آلودگی پھیلانے والے ممالک سے ہرجانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ یہ قدم موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے دوچار ترقی پذیر ممالک کے لیے انصاف حاصل کرنے کی ایک بڑی کوشش سمجھا جا رہا ہے۔
نیپال نے عالمی سطح پر موسمیاتی انصاف کے حصول کے لیے ایک نیا محاذ کھول دیا ہے جہاں ملک کی وزیر خارجہ نے دنیا کے تین بڑے آلودگی پھیلانے والے ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حالیہ تباہ کن آفات اور موسمیاتی نقصان کے ازالے کے لیے نیپال کو معاوضہ ادا کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ غریب اور ترقی پذیر ممالک، جو عالمی کاربن کے اخراج میں نہ ہونے کے برابر حصہ ڈالتے ہیں، وہ صنعتی ممالک کی پھیلائی گئی آلودگی کی سب سے بڑی قیمت چکانے پر مجبور ہیں۔ حالیہ برسوں میں نیپال کو غیر معمولی بارشوں، گلیشیرز کے پگھلاؤ اور تباہ کن سیلابوں کا سامنا کرنا پڑا ہے جس سے انفراسٹرکچر اور انسانی جانوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ ماہرین کے مطابق، نیپال کا یہ مطالبہ دراصل ان تمام کمزور ممالک کی ترجمانی کرتا ہے جو موسمیاتی بحران کے سب سے زیادہ شکار ہیں لیکن ان کے پاس بحالی کے لیے خاطر خواہ وسائل موجود نہیں۔ عالمی برادری اور ترقی یافتہ ممالک پر طویل عرصے سے یہ دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ موسمیاتی فنڈنگ میں اضافہ کریں اور نقصان اٹھانے والے ممالک کو مالی امداد فراہم کریں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عالمی طاقتیں نیپال کے اس دوٹوک مطالبے پر کیا ردعمل ظاہر کرتی ہیں اور آیا وہ اپنی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مالی معاوضے کی ادائیگی کے لیے کوئی عملی قدم اٹھاتی ہیں یا نہیں۔ اس مطالبے نے ایک بار پھر پیرس معاہدے اور عالمی ماحولیاتی کانفرنسوں میں طے پانے والے وعدوں پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں، جہاں غریب ممالک مسلسل انصاف کے منتظر ہیں۔