LIVE
Loading Breaking News...

فلسطین ایکشن کے کارکنان کی دہشت گردی کی سزاؤں کے خلاف اپیل

News Image
فلسطین ایکشن کے چار کارکنان، جنہیں مجرمانہ نقصان کے مقدمے میں دہشت گردی کے تعلق کے ساتھ سزائیں سنائی گئی تھیں، نے اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے۔ یہ مقدمہ بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق اور احتجاج کے حق کے حوالے سے ایک اہم موڑ اختیار کر چکا ہے۔
برطانیہ میں فلسطین ایکشن کے چار قید کارکنان نے ان سزاؤں کے خلاف باضابطہ طور پر اپیل دائر کر دی ہے جو انہیں مجرمانہ نقصان کے مقدمے میں دہشت گردی کے تعلق کے ساتھ سنائی گئی تھیں۔ ان کارکنان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے احتجاجی مظاہروں کے دوران کارروائی کرتے ہوئے املاک کو نقصان پہنچایا، جسے استغاثہ نے دہشت گردی کی دفعات کے ساتھ منسلک کیا۔ اس عدلیہ فیصلے نے قانونی اور انسانی حقوق کے حلقوں میں سخت تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ احتجاج کے بنیادی حق کو دہشت گردی کے زمرے میں لانا خطرناک مثال قائم کر رہا ہے۔ اپیل دائر کرنے والے کارکنان کے وکلا کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکلوں کا مقصد صرف جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف آواز بلند کرنا تھا نہ کہ معاشرے میں خوف و ہراس پھیلانا۔ عدالت میں دائر کی گئی دستاویزات میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ مجرمانہ نقصان کے عام مقدمات کو دہشت گردی کی دفعات سے جوڑنا بنیادی انسانی حقوق اور پرامن احتجاج کی آزادی کی صریح خلاف ورزی ہے۔ قانونی ٹیم کو امید ہے کہ اپیل کورٹ اس فیصلے کا از سر نو جائزہ لے گی اور سزاؤں کو کالعدم یا کم کرے گی۔ دوسری جانب، اس مقدمے نے بین الاقوامی سطح پر بھی انسانی حقوق کی تنظیموں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ متعدد عالمی اداروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے والے کارکنان کے خلاف سخت قوانین کے نفاذ کو اظہارِ رائے کی آزادی پر حملہ قرار دیا ہے۔ کارکنان کے حامیوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت کو احتجاجی تحریکوں کو دبانے کے لیے انسداد دہشت گردی کے قوانین کے استعمال سے گریز کرنا چاہئے۔ مقدمے کی آئندہ سماعتیں آنے والے ہفتوں میں متوقع ہیں، جہاں دونوں طرف کے وکلا اپنے دلائل پیش کریں گے۔ اس کیس کے نتائج نہ صرف ان چار کارکنان کی ذاتی آزادی کا فیصلہ کریں گے بلکہ مستقبل میں اس نوعیت کے احتجاجی مظاہروں اور ریاستی ردعمل کے لیے بھی ایک اہم قانونی نظیر بنیں گے۔ نکسورا نیوز اردو اس اہم قانون جنگ اور عدلیہ کے فیصلوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔