World
سوڈان خانہ جنگی: بیرونی مداخلت اور انسانی بحران پر اقوام متحدہ کی رپورٹ
اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سوڈان کی جنگ میں بیرونی جنگجوؤں اور غیر ملکی حمایت کی وجہ سے فریقین کی عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس صورتحال نے ملک میں جاری انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
سوڈان میں جاری تباہ کن خانہ جنگی کے حوالے سے ایک انتہائی تشویشناک تحقیقاتی رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس جنگ کو جاری رکھنے میں بیرونی جنگجوؤں اور غیر ملکی حمایت کا بڑا ہاتھ ہے۔ اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ اس تحقیقات کے مطابق جنگ میں شامل مختلف فریقین کو باہر سے مسلسل عسکری اور مالی مدد فراہم کی جا رہی ہے، جس سے نہ صرف ان کی عسکری صلاحیتیں مضبوط ہو رہی ہیں بلکہ تنازع کا سیاسی حل بھی مزید پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس بیرونی مداخلت کی وجہ سے سوڈان کے اندر جاری مسلح تصادم میں شدت آ گئی ہے اور ملک کے طول و عرض میں عام شہریوں کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ فریقین کی طرف سے طاقت کے استعمال میں اضافے کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات زندگی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور امدادی ادارے پہلے ہی اس بات کا خدشہ ظاہر کر چکے ہیں کہ اگر فوری طور پر بیرونی عناصر نے مداخلت بند نہ کی تو صورتحال مکمل انسانی تباہی کی طرف چلی جائے گی۔
بین برادری اور عالمی اداروں کی جانب سے اس رپورٹ کے بعد ایک بار پھر فریقین پر زور دیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی کریں اور مذاکرات کی میز پر آئیں تاکہ ملک میں امن کی بحالی کا عمل شروع کیا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک بیرونی حمایت کا یہ سلسلہ بند نہیں ہوتا، سوڈان کے اندر پائیدار امن کا قیام ناممکن رہے گا۔ اقوام متحدہ کے متعلقہ ادارے اس بحران سے نمٹنے کے لیے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم سکیورٹی کے خدشات کی وجہ سے امدادی کارکنوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔