LIVE
Loading Breaking News...

سپین میں تارکین وطن کی کشتی کا حادثہ، پانچ ہلاک، درجنوں لاپتہ

News Image
سپین کے جزائر کینری جانے والی تارکین وطن کی ایک لکڑی کی کشتی ہفتوں تک سمندر میں رہنے کے بعد حادثے کا شکار ہو گئی، جس کے نتیجے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک اور درجنوں لاپتہ ہو گئے۔ ہسپانوی حکام اور امدادی اداروں نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا ہے۔
سپین کے جزائر کینری کی طرف سفر کرنے والی تارکین وطن کی ایک خستہ حال لکڑی کی کشتی کو ہفتوں تک سمندر میں رہنے کے بعد ایک خوفناک حادثے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس دلخراش واقعے میں کم از کم پانچ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ درجنوں افراد تاحال لاپتہ بتائے جا رہے ہیں جن کی تلاش کا عمل جاری ہے۔ ہسپانوی حکام کا کہنا ہے کہ یہ تارکین وطن افریقی ساحلوں سے نکل کر بہتر مستقبل اور روزگار کی تلاش میں خطرناک سمندری راستے کے ذریعے سپین میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن طویل سفر اور نامساعد حالات کی وجہ سے ان کی کشتی مشکلات کا شکار ہو گئی۔ امدادی اداروں اور کوسٹ گارڈ کے عملے نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے جائے وقوعہ سے چند افراد کو زندہ بچا لیا ہے جنہیں فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ بچ جانے والے افراد نے حکام کو بتایا کہ وہ ہفتوں سے سمندر میں پھنسے ہوئے تھے اور ان کے پاس خوراک اور پانی کی شدید قلت ہو چکی تھی، جس کی وجہ سے کئی افراد پہلے ہی کمزوری کا شکار ہو چکے تھے۔ ریسکیو ٹیمیں ہیلی کاپٹرز اور بحری جہازوں کی مدد سے سمندر میں لاپتہ ہونے والے افراد کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن چلا رہی ہیں، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زندہ بچ جانے والوں کی امیدیں کم ہوتی جا رہی ہیں۔ بین الاقوامی تنظیموں نے ایک بار پھر تارکین وطن کے اس خطرناک روٹ پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ غربت، جنگ اور بے روزگاری سے تنگ آकर لوگ غیر قانونی اور خطرناک طریقوں سے یورپ کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے یورپی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کریں اور سمندر میں پھنسے ہوئے لوگوں کی بروقت مدد کو یقینی بنائیں تاکہ اس طرح کے المناک واقعات کو روکا جا سکے۔