World
نیپال: دریائے ترشولی کو زپ لائن سے عبور کرتے ہوئے پھنسے ہوئے افراد
نیپال میں حالیہ قدرتی آفات کے بعد امدادی کیمپوں میں موجود افراد خوراک اور ادویات جیسی بنیادی اشیاء کے حصول کے لیے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ مقامی افراد اپنی جان جوکھم میں ڈال کر بپھرے ہوئے دریائے ترشولی کو زپ لائن کے ذریعے پار کرنے پر مجبور ہیں۔
نیپال میں آنے والی تباہ کن صورتحال کے بعد امدادی کیمپوں میں پناہ لینے والے ہزاروں افراد کو اس وقت شدید ترین انسانی بحران کا سامنا ہے۔ خوراک، صاف پانی اور زندگی بچانے والی ادویات جیسی بنیادی اشیائے ضروریہ کی عدم دستیابی نے متاثرین کی مشکلات کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ حکومتی اور فلاحی اداروں کی جانب سے امدادی کارروائیاں جاری ہیں، تاہم تباہ شدہ راستوں اور پلوں کی وجہ سے امداد کا مستحقین تک پہنچنا انتہائی دشوار ہو چکا ہے۔ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب مواصلاتی نظام درہم برہم ہونے کے باعث لوگوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے انتہائی خطرناک طریقوں کا سہارا لینا پڑا۔ ریلیف کیمپوں میں مقیم بہت سے افراد اپنی بقا اور روزمرہ کی ضروریات کے لیے بپھرے ہوئے اور طوفانی دریائے ترشولی کو عبور کرنے پر مجبور ہیں۔ پل نہ ہونے یا ٹوٹ جانے کی وجہ سے مقامی شہریوں اور امداد کے متلاشی افراد نے عارضی اور خطرناک زپ لائن کا استعمال شروع کر دیا ہے، جس سے ان کی زندگیاں ہر لمحہ خطرے میں رہتی ہیں۔ دوسری جانب، مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں میں زمینی راستوں کی بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں تاکہ امدادی سامان بلا تعطل متاثرین تک پہنچایا جا سکے اور اس خطرناک زپ لائن کے استعمال کو روکا جا سکے۔ اس کے باوجود، فوری ریلیف نہ ملنے کی صورت میں متاثرہ آبادی میں بے چینی بڑھ رہی ہے اور عالمی سطح پر نیپال کے سیلاب زدگان کے لیے مزید امداد کی اپیل کی جا رہی ہے۔