World
شام میں کرد خواتین وائی پی جے کا سیکیورٹی فورسز میں کردار کا مطالبہ
شام کی جمہوری فورسز ایس ڈی ایف کی تحلیل کے بعد، تمام خواتین پر مشتمل کرد تنظیم وائی پی جے نے ملک کے نئے سیکیورٹی ڈھانچے میں اپنا جنگی اور دفاعی کردار برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ خواتین اس سے قبل داعش کے خلاف فیصلہ کن معرکوں میں نمایاں حصہ لے چکی ہیں اور اب مستقبل کی سیکیورٹی میں اپنی جگہ چاہتی ہیں۔
شام میں ایس ڈی ایف کی حالیہ پیش رفت اور تبدیلیوں کے بعد، خواتین پر مشتمل کرد جنگجو تنظیم وائی پی جے (YPJ) نے ملک کے نئے سیکیورٹی ڈھانچے میں اپنا اہم جنگی اور دفاعی کردار محفوظ رکھنے کے لیے سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔ یہ تنظیم ماضی میں داعش جیسی شدت پسند تنظیم کے خلاف طویل اور خونریز جنگ میں بنیادی حلیف کے طور پر ابھری تھی اور عالمی سطح پر اس کی عسکری صلاحیتوں کو تسلیم کیا گیا تھا۔ تنظیم کی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ خطے میں امن و استحکام کے قیام اور انتہا پسند عناصر کے دوبارہ ابھرنے کو روکنے کے لیے ان کا تجربہ اور موجودگی ناگزیر ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، شام کے بدلتے ہوئے سیاسی اور عسکری منظرنامے میں کرد فورسز کے مستقبل کا فیصلہ ایک انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ وائی پی جے کی قیادت کا مؤقف ہے کہ انہوں نے اپنے علاقوں کے دفاع کے لیے جو قربانیاں دی ہیں، انہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ تنظیم چاہتی ہے کہ شام کی مستقبل کی قومی یا علاقائی سیکیورٹی فورسز میں ان کی خودمختار حیثیت اور دفاعی صلاحیتوں کو باضابطہ طور پر شامل کیا جائے تاکہ خواتین کے حقوق اور سلامتی کے خدشات کو دور کیا جا سکے۔
دوسری جانب، علاقائی اور بین الاقوامی طاقتیں شام کے مستقبل کے سیکیورٹی ڈھانچے کو تشکیل دینے کے لیے مسلسل مذاکرات کر رہی ہیں۔ اس دوران کرد خواتین فورسز کی جانب سے مسلسل یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حاصل کی گئی کامیابیوں کو ضائع نہیں ہونے دیں گی۔ اگرچہ حکومتی سطح پر حتمی معاہدے تاحال زیر غور ہیں، تاہم وائی پی جے کا یہ عزم ظاہر کرتا ہے کہ وہ شام کے مستقبل میں ایک فعال اور توانا سیکیورٹی قوت کے طور پر اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں۔