LIVE
Loading Breaking News...

تجارتی سہولت کاری بورڈ کا قیام اور معاشی تجزیہ

News Image
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ٹریڈ فیسلیٹیشن بورڈ قائم کرنے کی منظوری دی گئی ہے جس کی سربراہی وزیراعظم خود کریں گے۔ معاشی ماہرین نے اس اقدام کو ملک میں کراس بارڈر ٹریڈ کو بہتر بنانے اور درآمد کنندگان و برآمد کنندگان کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں تجارت کے فروغ اور کاروباری سرگرمیوں کو آسان بنانے کے لیے ایک اہم اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کے دوران وزیراعظم نے 'ٹریڈ فیسلیٹیشن بورڈ' کے قیام کی باضابطہ منظوری دی، اور یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس نوزائیدہ بورڈ کی سربراہی خود وزیراعظم کریں گے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ملکی سرحدوں کے آر پار تجارت (کراس بارڈر ٹریڈ) کے عمل کو زیادہ موثر، شفاف اور کم وقت طلب بنانا ہے تاکہ ملکی اور غیر ملکی تاجروں کو درپیش مشکلات کا فوری ازالہ کیا جا سکے۔ معاشی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے حکومت کے اس قدم کو انتہائی سراہتے ہوئے اسے برآمدات میں اضافے اور درآمدی و برآمدی عمل میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ایک گیم چینجر قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل عرصے سے تاجر برادری کی جانب سے اس بات کا مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ تجارتی عمل کو آسان بنایا جائے اور پورٹس پر اصلاحات نافذ کی جائیں۔ وزیراعظم کی براہ راست اس بورڈ کی سربراہی کرنے سے اس بات کی ضمانت ملتی ہے کہ فیصلوں پر عمل درآمد تیزی سے ہوگا اور بیوروکریٹک تاخیر کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔ اس نئے بورڈ کا دائرہ کار صرف پالیسی سازی تک محدود نہیں ہوگا بلکہ یہ بندرگاہوں (پورٹس) پر موجود نظام میں اصلاحات، کُلیرینس کے عمل کو تیز کرنے اور تمام متعلقہ اداروں کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے بھی کام کرے گا۔ ملک کے موجودہ معاشی منظر نامے میں جب کہ برآمدات میں اضافہ ملکی معیشت کی بحالی کے لیے ناگزیر ہے، ٹریڈ فیسلیٹیشن بورڈ کا قیام کاروباری طبقے کے لیے ایک حوصلہ افزا پیغام ہے۔ حکومت کو امید ہے کہ اس بورڈ کے فعال ہونے سے پاکستان میں کاروبار کرنا مزید آسان ہو جائے گا اور بین الاقوامی تجارت کے میدان میں ملکی پوزیشن مزید مستحکم ہوگی۔