Politics
سندھ اسمبلی میں نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ اور صوبے کی تقسیم پر بحث
سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے نئے انتظامی یونٹس بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے، جبکہ حکمران جماعت اور دیگر اراکین نے صوبے کی تقسیم کے خلاف قرارداد منظور کر لی ہے۔ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ سندھ ایک ہے اور اسے تقسیم کرنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنایا جائے گا۔
کراچی: سندھ اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں صوبے کے اندر نئے انتظامی یونٹس کے قیام کا معاملہ ایک بار پھر گرم سیاسی موضوع بن گیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں بالخصوص ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں کی جانب سے صوبے میں انتظامی بہتری اور ترقیاتی امور کی بہتری کے لیے نئے انتظامی یونٹس بنانے کا مطالبہ زور و شور سے اٹھایا گیا ہے۔ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ بڑے صوبے کو بہتر طریقے سے چلانے اور عوام کے بنیادی مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنے کے لیے انتظامی بنیادوں پر تبدیلیاں ناگزیر ہو چکی ہیں۔
تاہم، دوسری طرف حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی قوتوں نے صوبے کی تقسیم کی کسی بھی کوشش کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ سندھ اسمبلی میں اس سلسلے میں ایک متفقہ قرارداد بھی پیش کی گئی اور منظور کی گئی جس میں واضح کیا گیا کہ سندھ ایک اکائی ہے، ایک تھا اور ہمیشہ ایک ہی رہے گا۔ حکومتی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ صوبے کی تقسیم کے نعرے دراصل سیاسی مفادات پر مبنی ہیں اور عوام اس قسم کے کسی بھی ایجنڈے کو قبول نہیں کریں گے۔
پی پی پی قیادت کا کہنا ہے کہ اگر نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بنانے ہی ہیں تو اس کا فیصلہ آئینی اور جمہوری طریقہ کار کے مطابق ہونا چاہیے نہ کہ سیاسی بلیک میلنگ یا زبردستی کے ذریعے۔ ادھر ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ اور دیگر رہنماؤں نے اپنے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامی یونٹس کا مطالبہ صوبے کیخلاف نہیں بلکہ یہاں کے پسماندہ علاقوں اور شہریوں کے حقوق کی بحالی کے لیے ہے۔
ماہرینِ سیاسیات کا ماننا ہے کہ پاکستان جیسے وفاقی ملک میں انتظامی بنیادوں پر یونٹس کی تشکیل کا معاملہ ہمیشہ سے حساس رہا ہے۔ اس توازن کو برقرار رکھنے کے لیے تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مفاہمت اور آئینی حدود کے اندر رہ کر مکالمہ ناگزیر ہے۔ آنے والے دنوں میں اس موضوع پر سیاسی جماعتوں کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، کیونکہ دونوں اطراف کے مؤقف میں زمین آسمان کا فرق ہے۔