World
جے ڈی وینس کا ایرانی شادی پر حملے پر متنازع بیان، چار ہلاک
امریکہ کے نو منتخب نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران میں شادی کی تقریب پر ہونے والے فضائی حملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے واقعات رونما ہو جاتے ہیں۔ اس حملے کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہو گئے تھے جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
امریکہ کے اہم سیاسی رہنما اور نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران میں ایک شادی کی تقریب پر ہونے والے اس فضائی حملے پر اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے جس کے نتیجے میں چار معصوم شہری لقمہ اجل بن گئے تھے۔ اس سانحے کے بعد بین الاقوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور صورتحال انتہائی کشیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ جے ڈی وینس کی جانب سے دیے گئے بیان نے اس معاملے کو مزید گرما دیا ہے، کیونکہ اس حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تدفین کے بعد علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ایرانی حکومت نے اس کارروائی کو باضابطہ طور پر جنگی جرم قرار دیا ہے اور عالمی اداروں سے اس کا سخت نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب، امریکہ کے اندر اور باہر بھی اس واقعے پر ملے جلے تاثرات پائے جاتے ہیں جبکہ وینس کے اس جملے 'ایسا ہوتا ہے' نے انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ تہران کی جانب سے اس حملے کے خلاف جوابی کارروائیوں کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے، جس سے خطے میں ایک نئی جنگ کے خطرات منڈلانے لگے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی امن مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے اور اس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ مقامی میڈیا اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، اس چھوٹے سے ایرانی قصبے میں ہونے والی اس المناک تقریب نے خوشیوں کو ماتم میں بدل دیا ہے، جہاں اب سوگ کا سماں ہے۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایران نے امریکی دھمکیوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے سخت موقف اختیار کیا ہے، جس سے آنے والے دنوں میں مزید تناؤ کا خدشہ ہے۔