LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیلی وزیر کا غزہ سے فلسطینیوں کے انخلا کا نیا منصوبہ

News Image
اسرائیل کے ایک انتہائی دائیں بازو کے وزیر نے غزہ کے تمام فلسطینیوں کو خطے سے بے دخل کرنے کا ایک نیا منصوبہ پیش کیا ہے۔ اس متنازعہ منصوبے پر عالمی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
اسرائیل کے ایک انتہائی دائیں بازو کے وزیر نے غزہ کی پٹی سے تمام فلسطینی باشندوں کے مکمل انخلا اور جبری بے دخلی کا ایک انتہائی متنازعہ منصوبہ سامنے رکھا ہے۔ اس منصوبے کے تحت فلسطینیوں کو غزہ سے نکالنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر حمایت حاصل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، اور اس مقصد کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کی بھی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ اس سنگین پیش رفت نے مشرق وسطیٰ میں تناؤ کو مزید بڑھا دیا ہے اور عالمی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اسرائیلی حکومت کے اندرونی حلقوں میں اس حوالے سے مختلف بیانات سامنے آ رہے ہیں، جہاں ایک طرف دفاعی اور وزرائے مملکت کی سطح پر اس قسم کی پالیسیوں کو زیر غور رکھا جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف اس عمل کے خطے کے امن اور سلامتی پر تباہ کن اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے منصوبے نہ صرف دو ریاستی حل کو سبوتاژ کرتے ہیں بلکہ خطے میں مستقل اور پائیدار امن کے امکانات کو بھی شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ بین برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس طرح کے عزائم کی سخت مذمت کی ہے اور اقوام متحدہ سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے تاکہ فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق اور ان کے آبائی علاقوں میں رہنے کے حق کا تحفظ کیا جا سکے۔