World
نیپال میں سیلاب اور سرنگ حادثہ، ریسکیو آپریشن جاری
نیپال اور تبت میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد سرنگ میں پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں پوری رفتار سے جاری ہیں۔ حکام اور ریسکیو ٹیمیں اب بھی ملبے سے زندہ افراد کو تلاش کرنے کی امید وابستہ کیے ہوئے ہیں۔
نیپال اور تبت کے سرحدی علاقوں میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال میں امدادی کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔ جنوبی ایشیائی خطے کی صورتحال پر نظر رکھنے والی نامہ نگار آزاد م的شری کے مطابق، ایک اہم سرنگ کے مقام پر ریسکیو ٹیمیں دن رات کام کر رہی ہیں تاکہ وہاں پھنسے ہوئے افراد کو باحفاظت نکالا جا سکے۔ اس مشکل گھڑی میں بھی ریسکیو اداروں اور مقامی حکام کا عزم بلند ہے اور وہ کسی بھی معجزے یا زندہ بچ جانے والے کی موجودگی کی امید کو ترک نہیں کر رہے ہیں۔ تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے اور سڑکیں تالاب کا منظر پیش کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے امدادی سامان اور ہیوی مشینری کی جائے وقوعہ تک رسائی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کے باوجود، فوج اور سول ڈیپارٹمنٹ کے غوطہ خور اور ماہرین اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر سرنگ کے اندر داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ اگر کوئی شخص اندر موجود ہو تو اسے فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے چند گھنٹے اس ریسکیو آپریشن کے حوالے سے انتہائی فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔ متاثرہ علاقوں میں مقیم شہریوں اور لاپتہ افراد کے لواحقین بے چینی سے اس سرنگ کے باہر اپنے پیاروں کی واپسی کا انتظار کر رہے ہیں۔ مقامی انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جب تک آخری شخص تک رسائی ممکن نہیں ہو جاتی، یہ امدادی آپریشن کسی بھی صورت بند نہیں کیا جائے گا۔ بین الاقوامی برادری نے بھی نیپال میں سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور امدادی سرگرمیوں میں تعاون کی پیشکش کی ہے۔