World
نیپال سیلاب متاثرین: ڈی این اے کے ذریعے شناخت کا فیصلہ
نیپال میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے دوران لقمہ اجل بننے والے لاپتا افراد اور لاوارث لاشوں کی شناخت کا عمل ڈی این اے ٹیسٹنگ کے ذریعے شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے لواحقین کو اپنے پیاروں کی میتیں تلاش کرنے میں بڑی مدد ملے گی۔
نیپال میں حالیہ دنوں آنے والے تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس قدرتی آفت کے بعد بہت سے افراد تاحال لاپتا ہیں جبکہ متعدد لاوارث لاشیں بھی ملی ہیں جن کی شناخت روایتی طریقوں سے ممکن نہیں ہو پا رہی تھی۔ اس مشکل صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکام نے اب جدید سائنسی طریقوں کا سہارا لینے کا فیصلہ کیا ہے اور متاثرین کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹنگ کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ اس قدم سے ان خاندانوں کو بڑی راحت ملے گی جو اپنے پیاروں کی تلاش میں در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔
حکومتی ذرائع کے مطابق، مختلف علاقوں سے ملنے والی لاشوں کے نمونے محفوظ کر لیے گئے ہیں جن کا موازنہ ان خاندانوں کے ڈی این اے سے کیا جائے گا جن کے عزیز اس آفت کے بعد سے لاپتا ہیں۔ اس عمل کے لیے فرانزک ماہرین کی خصوصی ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی ہیں جو اس تمام عمل کی نگرانی کر رہی ہیں۔ وزیر داخلہ اور دیگر متعلقہ اداروں نے یقین دلایا ہے کہ اس مشکل گھڑی میں حکومت متاثرہ خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور شناخت کا یہ عمل شفاف اور تیز رفتار بنایا جائے گا تاکہ لوگ جلد از جلد اپنے پیاروں کی آخری رسومات ادا کر سکیں۔
بین الاقوامی امدادی تنظیموں نے بھی نیپال حکومت کے اس اقدام کو سراہا ہے اور ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ سیلاب کی وجہ سے ملک کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہوا تھا، جس کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تاہم اب ڈی این اے ٹیسٹنگ کے اس لائحہ عمل سے ان تمام خاندانوں کو ایک نئی امید ملی ہے جو طویل عرصے سے اپنے پیاروں کے بارے میں کسی بھی مصدقہ اطلاع کے منتظر تھے۔ حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ لاپتا افراد کے کوائف اور اپنے ڈی این اے کے نمونے دینے کے لیے قریبی طبی مراکز سے رابطہ کریں۔