Technology
امریکہ: روبوٹ سیلی کا اسکول میں تعیناتی کا منصوبہ منسوخ
نیویارک کے ایک اسکول ڈسٹرکٹ نے ساٹھ ہزار ڈالر مالیت کے مصنوعی ذہانت سے لیس روبوٹ سیلی کو کلاس رومز میں تعینات کرنے کا منصوبہ ختم کر دیا۔ یہ فیصلہ روبوٹ بنانے والی کمپنی کے سیکس ڈولز کے ساتھ تعلقات سامنے آنے کے بعد کیا گیا۔
امریکہ میں نیویارک کے ایک اسکول ڈسٹرکٹ نے ساٹھ ہزار ڈالر مالیت کے ہیومنائیڈ روبوٹ کو کلاس رومز میں تعینات کرنے کا فیصلہ فوری طور پر منسوخ کر دیا ہے۔ سیلی نامی اس روبوٹ کو جدید مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی سے لیس کیا گیا تھا اور اس کا مقصد تعلیمی سرگرمیوں میں طلبا کی مدد کرنا تھا۔ تاہم، اسکول انتظامیہ کی جانب سے یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا جب انہیں معلوم ہوا کہ اس روبوٹ کی تیاری میں حصہ لینے والی کمپنی کے تعلقات سیکس ڈولز بنانے والے اداروں کے ساتھ ہیں۔ اس انکشاف کے بعد مقامی سطح پر شدید تشویش پائی گئی اور والدین کی طرف سے بھی کڑے سوالات اٹھائے گئے۔ سلامانکا سٹی سینٹرل اسکول ڈسٹرکٹ کے حکام نے اس معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر روبوٹ کو اسکول لانے کا منصوبہ ترک کرنے کا اعلان کیا۔ حکام کا کہنا تھا کہ طلبا کا تحفظ اور ان کا اخلاقی ماحول اولین ترجیح ہے اور اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس واقعے کے بعد تعلیمی اداروں میں مصنوعی ذہانت کے آلات اور روبوٹس کے استعمال کے حوالے سے حفاظتی اور اخلاقی معیارات پر بھی از سر نو غور شروع ہو گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسکولوں میں ٹیکنالوجی کے انخلا سے پہلے مینوفیکچررز کے پس منظر اور ان کے کاروباری شراکت داروں کی مکمل جانچ پڑتال انتہائی ضروری ہے تاکہ بچوں کے سامنے کسی قسم کے غیر اخلاقی یا متنازعہ عناصر نہ آ سکیں۔ اسکول انتظامیہ کے اس بروقت فیصلے کو عوامی حلقوں میں سراہا جا رہا ہے جبکہ اس واقعے نے مستقبل میں تعلیمی اداروں کے لیے ٹیکنالوجی کے انتخاب کے ضوابط کو مزید سخت کرنے کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔