World
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایران جنگ سے متعلق اہم بیان
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے وائٹ ہاؤس میں بریفنگ کے دوران موجودہ ایران کشیدگی کے خاتمے کے لیے کوئی وقت یا مدت بتانے سے انکار کیا۔ انہوں نے حالیہ جھڑپوں کے باوجود اس تنازع کو باقاعدہ جنگ تسلیم کرنے سے متعلق بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔
واشنگٹن: امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے وائٹ ہاؤس میں منعقدہ ایک پریس بریفنگ کے دوران ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور حالیہ تنازع کے خاتمے کے لیے کوئی بھی حتمی مدت یا ٹائم لائن دینے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کے اس اہم ترین عہدیدار نے اس بات پر بھی گہرے شکوک و شبہات کا اظہار کیا کہ موجودہ صورتحال کو روایتی معنوں میں ایک باقاعدہ جنگ کہا جا سکتا ہے، حال ہی میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ اس قسم کے پیچیدہ جیو پولیٹیکل تنازعات کے لیے کوئی مخصوص کیلنڈر یا وقت مقرر کرنا نہ صرف مشکل ہے بلکہ قبل از وقت بھی ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ انتظامیہ حالات کا بغور جائزہ لے رہی ہے اور قومی سلامتی کے تقاضوں کے مطابق ہی آئندہ کے لائحہ عمل کا تعین کیا جائے گا۔ حالیہ جھڑپوں اور فریقین کے درمیان بڑھتی ہوئی لفظی جنگ کے باوجود انہوں نے موجودہ بحران کی نوعیت کو جنگ قرار دینے سے احتیاط برتی۔
عالمی امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ جے ڈی وینس کا یہ بیان واشنگٹن کی جانب سے احتیاطی سفارتی اور حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد ممکنہ عسکری اقدامات پر کسی قسم کی غیر ضروری عجلت کا تاثر زائل کرنا ہے۔ وائٹ ہاؤس انتظامیہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ خطے میں امریکی مفادات کا تحفظ بھی ہو اور ساتھ ہی کسی طویل المیعاد جنگ میں الجھنے سے بھی گریز کیا جا سکے، تاہم زمینی حقائق بدستور کشیدہ بنے ہوئے ہیں۔