LIVE
Loading Breaking News...

امریکی امیگریشن افسر پر مینیسوٹا فائرنگ کیس میں جھوٹ بولنے کا مقدمہ

News Image
امریکہ کے محکمہ انصاف نے ایک وفاقی امیگریشن افسر کے خلاف مینیسوٹا فائرنگ واقعے میں عدالت میں جھوٹ بولنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ افسر پر الزام ہے کہ اس نے فائرنگ کے دوران لوگوں کی موجودگی پر مبنی گھر پر گولی چلانے کے حقائق چھپائے۔
امریکہ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ایک وفاقی اہلکار کو سنگین الزامات کا سامنا ہے۔ حکام کے مطابق امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے ایک ایجنٹ پر مینیسوٹا میں پیش آنے والے فائرنگ کے ایک واقعے کے حوالے سے حلفیہ جھوٹ بولنے اور عدالت کو گمراہ کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ یہ کارروائی محکمہ انصاف کی جانب سے کی گئی ہے جس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ متعلقہ افسر نے قانون کے منافی اقدامات کو چھپانے کی کوشش کی۔ ابتدائی تفتیش اور اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مذکورہ ایجنٹ نے مینیسوٹا میں ایک ایسے رہائشی مکان پر فائرنگ کی جس کے اندر اس وقت عام شہری اور لوگ موجود تھے۔ فائرنگ کے اس انتہائی خطرناک اقدام کے بعد افسر نے مبینہ طور پر اعلیٰ حکام اور تفتیشی اداروں کے سامنے اس واقعے کے محرکات اور حالات کے بارے میں جھوٹا بیان دیا۔ اس نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ حالات کے تحت فائرنگ کرنا ضروری تھا، جب کہ شواہد اس کے برعکس بتائے جاتے ہیں۔ محکمہ انصاف کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ارکان سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ سچائی کا ساتھ دیں گے اور کسی بھی غفلت یا غیر قانونی اقدام کی صورت میں جواب دہ ہوں گے۔ اس معاملے میں ایجنٹ کا حلفیہ بیان سے انحراف اور جھوٹ بولنا ایک سنگین جرم ہے جس پر اب عدالتی کارروائی کا آغاز ہو چکا ہے۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس کیس کے فیصلے سے امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں میں احتساب کے عمل پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ متاثرہ علاقے اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ شفاف تحقیقات کے ذریعے ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ مقدمے کی سماعت آنے والے دنوں میں مقامی عدالت میں متوقع ہے جہاں پراسیکیوشن ٹیم ایجنٹ کے خلاف مزید شواہد عدالت میں پیش کرے گی۔