World
بھارت کا سندھ طاس معاہدے پر عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ مسترد
بھارت نے ہیگ میں قائم ثالثی عدالت کے اس فیصلے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے۔ اس فیصلے کے بعد دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان آبی تنازعات کے حوالے سے کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
نئی دہلی: بھارت نے ایک اہم سفارتی اور قانونی پیشرفت کے دوران ہیگ میں قائم بین الاقوامی ثالثی عدالت کے اس فیصلے کو باضابطہ طور پر مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ تاریخی سندھ طاس معاہدہ (Indus Waters Treaty) بدستور نافذ العمل ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس عدالت کی تشکیل اور اس کا دائرہ اختیار دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے بنیادی معاہدے اور قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں ہے، لہذا اس کا کوئی بھی فیصلہ نئی دہلی پر اثرانداز نہیں ہو سکتا۔ یہ تنازع دونوں ممالک کے درمیان پانی کی تقسیم اور پن بجلی کے منصوبوں کے تناظر میں طویل عرصے سے چلا آ رہا ہے۔
دوسری جانب، قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ جو کہ 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں طے پایا تھا، دنیا کے کامیاب ترین آبی معاہدوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت مشرقی دریاؤں کا کنٹرول بھارت جبکہ مغربی دریاؤں کا کنٹرول پاکستان کے سپرد کیا گیا تھا۔ تاہم، حالیہ برسوں میں دریائے چناب اور جہلم پر بھارت کی جانب سے تعمیر کیے جانے والے پن بجلی کے متنازع منصوبوں پر اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان شدید اختلافات ابھر کر سامنے آئے ہیں، جن پر پاکستان نے بین الاقوامی فورمز سے رجوع کیا تھا۔
ماہرینِ بین الاقوامی قانون کے مطابق، بھارت کا عدالت کے فیصلے کو یکسر مسترد کرنا خطے میں آبی سفارتی تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ پانی جیسے حساس موضوع پر دونوں ایٹمی قوتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو متاثر کرتی ہے بلکہ جنوبی ایشیا کے ماحولیاتی اور زرعی استحکام کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ عالمی برادری اور ثالثی ادارے اس صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ سندھ طاس معاہدے کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے اور کسی بھی ممکنہ بڑے بحران کو روکا جا سکے۔