World
غزہ میں اسرائیلی حملے، 3 فلسطینی جاں بحق، وزیر کا بے دخلی کا منصوبہ
اسرائیلی ڈرون حملے اور فائرنگ کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں کم از کم تین فلسطینی جاں بحق ہو گئے ہیں۔ یہ حملے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایک انتہا پسند اسرائیلی وزیر کی جانب سے فلسطینیوں کی بے دخلی کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔
غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی جانب سے جارحیت کا سلسلہ بدستور جاری ہے جہاں حالیہ ڈرون حملوں اور فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم تین فلسطینی جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق یہ کارروائیاں ایک ایسے وقت میں کی جا رہی ہیں جب نام نہاد سیز فائر اور جنگ بندی کے مطالبات کے باوجود زمینی حقائق انتہائی گھمبیر بنے ہوئے ہیں اور عام شہریوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس تازہ ترین تشدد نے خطے میں امن کی تمام امیدوں کو مزید دھندلا دیا ہے اور انسانی بحران بدتر ہوتا جا رہا ہے۔
دوسری جانب، اسرائیلی حکومت کے ایک انتہائی دائیں بازو کے وزیر کی جانب سے غزہ کے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے لیے نئے منصوبے زیرِ غور لائے جا رہے ہیں۔ اس انتہائی متنازعہ منصوبے پر اندرون و بیرون ملک سخت تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ بین الاقوامی قوانین کے تحت کسی بھی آبادی کی جبری نقل مکانی یا بے دخلی جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لے۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کے مختلف علاقوں میں گولہ باری اور فضائی حملوں کا نشانہ بننے والے مکینوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اسپتالوں میں طبی عملے کو ادویات اور ایندھن کی شدید قلت کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے زخمیوں کی جان بچانا محال ہوتا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر سفارتی کوششیں جاری ہیں تاہم زمینی سطح پر تشدد کے واقعات میں کوئی کمی واقع نہیں ہو رہی ہے اور عام شہریوں کا جانی نقصان مسلسل بڑھ رہا ہے۔
فلسطینی قیادت اور مختلف عرب ممالک نے اسرائیل کے ان عزائم اور حملوں کو خطے کے امن کے لیے سبوتاژ کرنے کی دانستہ کوشش قرار دیا ہے۔ عالمی برادری پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے کہ وہ فوری طور پر مداخلت کرے تاکہ غزہ کے محاصرہ زدہ عوام کو مزید خونریز کارروائیوں سے بچایا جا سکے اور خطے میں پائیدار جنگ بندی کے لیے موثر اقدامات کیے جا سکیں، ورنہ انسانی المیہ مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔