LIVE
Loading Breaking News...

ہسپانیہ اور موروکو سرحد: وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیز کا مؤقف

News Image
ہسپانیہ کے وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیز نے واضح کیا ہے کہ جولائی کے دوران سرحد پر پیش آنے والے دباؤ کے پیچھے موروکو کی کوئی باقاعدہ منصوبہ بندی ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے۔ انہوں نے پولیس کی اس رپورٹ پر بات کی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سرحدی کنٹرول کو کمزور کرنے کے لیے جان بوجھ کر ہجوم جمع کیا گیا تھا۔
ہسپانیہ کے وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیز نے حال ہی میں سامنے آنے والی پولیس رپورٹس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ موروکو نے جان بوجھ کر جولائی کے مہینے میں سیوٹا کی سرحد پر دھاوا بولنے کی کوئی منصوبہ بندی کی تھی۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سکیورٹی اداروں کی ایک اندرونی رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ سرحدی کنٹرول کو جان بوجھ کر مغلوب کرنے کے لیے بڑی تعداد میں لوگوں کو اکٹھا کیا گیا تھا۔ وزیرِ اعظم سانچیز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور سرحدی تعاون انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کے حساس معاملات پر کسی بھی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے تمام حقائق کا باریک بینی سے جائزہ لینا ضروری ہے۔ حکومت تمام پہلوؤں کا بغور مشاہدہ کر رہی ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان امن اور قانون کی صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے۔ سیوٹا اور میلیلا کے سرحدی علاقے طویل عرصے سے ہسپانیہ اور افریقی ممالک کے درمیان تارکینِ وطن کے لیے داخلے کے اہم راستے رہے ہیں۔ ان علاقوں میں اکثر اوقات انتہائی کشیدہ صورتحال پیدا ہو جاتی ہے جہاں سیکورٹی فورسز اور تارکینِ وطن کے درمیان براہِ راست ٹکراؤ کے واقعات بھی پیش آتے رہتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ سرحدی سلامتی کو مزید بہتر بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بروقت نمٹا جا سکے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اسپین اور موروکو کے درمیان سفارتی تعلقات معمول کے مطابق چل رہے ہیں اور دونوں دارالحکومت تارکینِ وطن کے مسائل سمیت دیگر مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باقاعدہ رابطے میں ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق وزیرِ اعظم کا یہ بیان دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں کشیدگی کو کم کرنے کی ایک کوشش ہے تاکہ باہمی تعاون کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔