LIVE
Loading Breaking News...

امریکی دھمکیوں کے باوجود ایران کا کویت میں امریکی اڈوں پر حملہ

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت دھمکیوں کے باوجود ایران نے خطے میں جوابی کارروائیاں کرتے ہوئے کویت میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔ فریقین کے درمیان جاری اس کشیدگی نے مشرق وسطیٰ میں امن کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مزید حملوں کی سخت دھمکیوں کے باوجود ایران نے جمعرات کے روز کویت میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرون طیاروں سے نشانہ بنایا ہے۔ حالیہ کشیدگی جو اتوار کو امریکی چھاپوں سے شروع ہوئی تھی، اس نے دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازع کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ اس جنگ کے دوران ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا ہوا ہے جبکہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھی ہوئی ہے۔ صدر ٹرمپ نے منگل اور بدھ کے دوران ملک بھر میں ہونے والی وسیع امریکی بمباری کے بعد بیان دیا تھا کہ ان کی فوج جب چاہے ایران پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہے، اس بمباری میں کم از کم 19 ایرانی جاں بحق ہوئے تھے۔ تہران نے اس ہفتے ایک بار پھر مشرق وسطیٰ میں جوابی حملے کیے ہیں اور دعویٰ کیا ہے کہ اس نے متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین، اردن اور عراق کے کردستان کے علاقے میں امریکی اڈوں اور فورسز کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی سیکیورٹی چیف محسن رضائی نے بدھ کے روز امریکہ کو خبردار کیا تھا کہ ایران نے اس جنگ میں ایک نئی حکمت عملی اپنا لی ہے جو امریکہ کی بنیادیں ہلا کر رکھ دے گی۔ ایرانی ذرائع کے مطابق یہ حملے جنوبی ایران میں ایک شادی کی تقریب پر ہونے والے امریکی حملے کے جواب میں کیے گئے ہیں جس میں بچوں سمیت کئی افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ کویت کی فوج نے جمعرات کو تصدیق کی کہ وہ ایران کی جانب سے آنے والے میزائل اور ڈرون حملے کو روک رہی ہے، جبکہ ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے کویت میں احمد الجابر ایئر بیس کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔ کویت نے ان حملوں کو اپنی سلامتی اور خودمختاری کے خلاف براہ راست خطرہ قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ دوسری جانب واشنگٹن نے تہران کی معیشت کو مفلوج کرنے کے لیے اقتصادی پابندیوں کو مزید سخت کرنے کا اعلان کیا ہے اور ان ممالک پر بھی پابندیوں کی دھمکی دی ہے جو ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ توانائی کے امریکی سیکریٹری کرس رائٹ نے بدھ کے روز عزم ظاہر کیا کہ اسلامی جمہوریہ کے اقتصادی شراکت داروں کو نشانہ بنانے کے لیے جامع پابندیوں کا منصوبہ انتہائی دباؤ کی پالیسی کے تحت نافذ کیا جائے گا۔ اس تمام صورتحال میں خطے کے عوام میں جنگ کے دوبارہ بھڑک اٹھنے پر گہری تشویش پائی جاتی ہے جبکہ دونوںجانب سے فوجی کارروائیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔