Business
حوالہ نیٹ ورکس کا ورچوئل اثاثوں اور فن ٹیک کا استعمال: ایف اے ٹی ایف اور او ای سی ڈی رپورٹ
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس اور او ای سی ڈی کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق، روایتی حوالہ نیٹ ورکس اور غیر قانونی مالیاتی ادارے اپنے غیر قانونی سرمائے کو چھپانے کے لیے ڈیجیٹل اثاثوں اور فن ٹیک پلیٹ فارمز کا تیزی سے استعمال کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت سمیت متعدد ممالک میں یہ نیٹ ورکس منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔
پیرس میں قائم مالیاتی امور کے دو اہم اداروں، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) اور اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم (OECD) نے ایک مشترکہ رپورٹ جاری کی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ روایتی انڈر گراؤنڈ مالیاتی نیٹ ورکس اور حوالہ سسٹم تیزی سے پیشہ ورانہ شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ یہ نیٹ ورکس اربوں ڈالر کی غیر قانونی دولت کو چھپانے کے لیے اب ورچوئل اثاثوں اور جدید فن ٹیک پلیٹ فارمز کا بھرپور استعمال کر رہے ہیں۔ پاکستان اور بھارت سمیت تقریباً 45 دائرہ اختیار اور تنظیموں کے فیڈ بیک کی بنیاد پر تیار کردہ اس رپورٹ میں انڈر گراؤنڈ بینکنگ کے ذریعے غیر قانونی رقوم کی منتقلی کے متعدد کیسز اجاگر کیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، پاکستان اور بھارت میں غیر قانونی مالیاتی ترسیلات اور انڈر گراؤنڈ بینکنگ کا کردار انتہائی تشویشناک حد تک بڑھ چکا ہے جو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے لیے انتہائی حساس نظام مانے جاتے ہیں۔ کچھ معاملات میں تو محض چند ماہ کے اندر ہی انڈر گراؤنڈ بینکنگ اسکیموں کے ذریعے 50 کروڑ یورو سے زائد کی رقم کو لانڈر کیے جانے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔ دنیا بھر کے 80 فیصد سے زائد رپورٹنگ ممالک نے ان سسٹمز کو پیشہ ورانہ منی لانڈرنگ کے لیے بنیادی ذرائع میں شمار کیا ہے۔
رپورٹ میں ایک مخصوص واقعے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ عمان کے مرکزی بینک (CBO) کو ایک وہسل بلور کے ذریعے اطلاع ملی تھی کہ کچھ افراد پاکستان کے لیے بغیر لائسنس کے کراس بارڈر ترسیلات زر کا کاروبار چلا رہے ہیں۔ تحقیقات کے دوران ایک واٹس ایپ گروپ کی نشاندہی کی گئی جس کے ذریعے تارکین وطن کو غیر ملکی کرنسی اور ترسیلات زر کی خدمات فراہم کی جا رہی تھیں۔ یہ حوالہ دار باضابطہ مارکیٹ ریٹ سے کم نرخوں اور انتہائی کم یا صفر فیس پر رقوم منتقل کرتے تھے اور صارفین کو ای والٹس کے ذریعے ادائیگی کے اسکرین شاٹس بھیجتے تھے۔ اس اسکیم کے تحت پاکستان میں فیس کے بغیر رقوم کی منتقلی جیسے راست (Raast) چینلز کا بھی استحصال کیا گیا تاکہ کم لاگت اور منافع بخش مارجن حاصل کیا جا سکے۔ عمانی حکام نے اس نیٹ ورک سے جڑے چھ مشتبہ افراد کی شناخت کی جن کے ذریعے ایک سال کے دوران تقریباً 72,293 ڈالر کے مالی لین دین کا ریکارڈ ملا۔ اسی طرح بھارت میں بھی غیر قانونی آن لائن جوا خانوں اور کھیلوں کی سٹے بازی سے حاصل ہونے والی رقوم کو حوالہ اور انڈر گراؤنڈ بینکنگ کے ذریعے منی لانڈرنگ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جہاں شیل کمپنیوں اور نقلی اکاؤنٹس کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ انڈر گراؤنڈ نیٹ ورک اب انتہائی مربوط، منظم اور تجارتی نوعیت کے کاروبار میں تبدیل ہو چکے ہیں، جس نے 'منی لانڈرنگ بطور سروس' کے تصور کو جنم دیا ہے۔ اس طرح کے نیٹ ورکس کم کمیشن ریٹس کی پیشکش کرتے ہیں اور سرحدوں کے آرپار بھاری مقدار میں رقوم تیزی سے منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جو کہ منظم جرائم پیشہ گروہوں کے لیے انتہائی پرکشش بن چکا ہے۔ ایف اے ٹی ایف نے اس امر پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اس قسم کے غیر قانونی مالیاتی ڈھانچے کو فروغ دینے میں وکیلوں، اکاؤنٹنٹس، مالیاتی مشیروں، اور رئیل اسٹیٹ ایجنٹس کا کردار بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، پروفیشنل منی لانڈررز بینک اکاؤنٹس، فن ٹیک پلیٹ فارمز، ورچوئل آئی بی اے اینز، اور کرپٹو والیٹس کو باقاعدہ مالیاتی نظام کے اندر ریگولیٹری کمزوریوں کا فائدہ اٹھانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔