World
نیپال سیلاب تباہی: بیس ہزار گھروں کی تعمیر اور امدادی کارروائیاں
نیپال میں حالیہ تباہ کن سیلاب اور گلیشیئر کے پھٹنے کے بعد حکام نے تقریباً بیس ہزار گھروں کو محفوظ مقامات پر دوبارہ تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب ہنگامی امدادی کارروائیاں اور لاپتہ افراد کی تلاش کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔
نیپال کے حکام نے جمعرات کے روز اعلان کیا ہے کہ سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں تقریباً بیس ہزار گھروں کو از سر نو تعمیر کرنا پڑے گا۔ یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے رونما ہونے والی اس تباہی کے بعد ریسکیو ٹیمیں اب بھی ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کی سرنگوں میں پھنسے ہوئے کارکنوں اور ہزاروں لاپتہ افراد کی تلاش میں سرگرم عمل ہیں۔ رواں برس اٹھائیس اگست کو پیش آنے والے گلیشیئر کے تودے گرنے کے واقعے کے بعد برف، چٹانوں اور کیچڑ کا ایک طوفان چین کے ساتھ نیپال کی سرحد سے متصل پسماندہ علاقے پر قہر بن کر ٹوٹا تھا، جس نے کئی بستیوں اور دیہات کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا اور چند ہی گھر سلامت چھوڑے۔
نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے سربراہ دھرم راج اپریتی نے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی تخمینوں کے مطابق سات ہزار پانچ سو گھر مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں جو یا تو سیلابی ریلے میں بہہ گئے ہیں یا پھر ملبے اور کیچڑ تلے دب چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو گھر بظاہر سلامت بچ گئے ہیں وہ بھی رہنے کے قابل نہیں ہیں، جس کے پیش نظر حکام کا تخمینہ ہے کہ تقریباً بیس ہزار گھروں کو مختلف اور نسبتاً محفوظ مقامات پر دوبارہ تعمیر کرنا ہوگا۔ نیپالی وزیر خارجہ شِسر کھنل نے کھٹمنڈو میں تعینات غیر ملکی سفراء کو بریفنگ دیتے ہوئے واضح کیا کہ اس بڑے پیمانے پر تعمیر نو کے لیے خاطر خواہ وسائل کی ضرورت ہوگی کیونکہ اس آفت نے ملک کی معیشت اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
اس ہولناک آفت کے نتیجے میں نیپال میں کم از کم بارہ سو باون افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ چار ہزار سے زائد افراد تاحال لاپتہ اور ہزاروں بے گھر ہو چکے ہیں۔ چینی حکام کے مطابق تبت کے علاقے میں اکیس افراد ہلاک اور پانچ سو اکتالیس لاپتہ ہیں۔ نیپالی کابینہ کے ترجمان نے بتایا کہ وزیراعظم بلیندرا شاہ کی کابینہ نے سانحے کے تئیسویں روز یعنی سات ستمبر کو قومی یوم سوگ منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے فوج کے نو ہزار تین سو سے زائد جوان متاثرہ علاقوں میں تعینات ہیں جو زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے، راستوں کی بحالی اور لاوارث لاشوں کے انتظام میں مصروف ہیں۔ اس کے علاوہ، چین اور دیگر دوست ممالک کی جانب سے امدادی سامان کی فراہمی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
دریں اثنا، پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں نیپال کی سفیر ریتا دھیتل سے ملاقات کی اور اس المناک سانحے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے نیپالی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے یقین دلایا کہ پاکستان اس مشکل گھڑی میں اپنے نیپالی بھائیوں کو تنہا نہیں چھوڑے گا اور اس ہفتے کے آخر تک ہنگامی امدادی سامان نیپال روانہ کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ نیپال کے بہادر عوام اس بڑی آفت کے اثرات سے جلد نکل کر زیادہ مضبوطی کے ساتھ ابھریں گے۔