Health
پاکستان میں غذائی قلت اور اسٹنٹنگ کے بحران پر بین الاقوامی کانفرنس کا اختتام
اسلام آباد میں منعقدہ دو روزہ 'ایکٹ فار نیوٹریشن' کانفرنس اختتام پذیر ہو گئی ہے جہاں ماہرین نے غذائی اور خوراک کے تحفظ کو بنیادی آئینی حق تسلیم کرنے پر زور دیا۔ کانفرنس میں انکشاف کیا گیا کہ غذائی قلت کے باعث پاکستان کو سالانہ تقریباً 17 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں منعقد ہونے والی دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس ’ایکٹ فار نیوٹریشن: دی ایمرجنسی وی کین نو لانگر اگنور‘ اختتام پذیر ہو گئی۔ کانفرنس کے دوران ماہرین اور عالمی اداروں کے نمائندوں نے اس بات پر زور دیا کہ خوراک اور غذائی تحفظ کو ریاست کی طرف سے بنیادی حق تسلیم کیا جائے۔ تقریب کا بنیادی مقصد پاکستان میں جاری غذائی قلت اور بچوں کی نشوونما میں رکاوٹ یعنی اسٹنٹنگ کے سنگین بحران سے مؤثر انداز میں نبردآزما ہونا تھا۔ کانفرنس کے اختتام پر ڈان کی چیف ایگزیکٹو افسر ناز آفریں سہگل لاکھانی نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کے غذائی بحران سے نمٹنے کے لیے صحت، زراعت، تعلیم، پانی، سماجی تحفظ اور معاشی پالیسیوں کی سطح پر مربوط حکمت عملی اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔ ماہرین نے پہلے روز انتباہ کیا تھا کہ پانچ سال سے کم عمر کے چار میں سے چار سے زائد بچے اسٹنٹنگ کا شکار ہیں اور یہ بحران ملک کو ہر سال تقریباً 17 ارب ڈالر کا معاشی نقصان پہنچا رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے پاکستان میں نمائندہ ڈاکٹر ڈاپینگ لو نے اپنے کلماتِ زریں میں کہا کہ غذائی قلت صحت، ترقی اور مواقع کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ ہے، جس کے لیے مضبوط اور پیش گوئی کے قابل ضوابط کی ضرورت ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کی کنٹری ڈائریکٹر انیتا ہرش نے بینظیر نشوونما پروگرام کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ غذائی خدمات کو قومی سماجی تحفظ کے نظام میں کامیابی سے ضم کیا گیا ہے۔ انہوں نے زندگی کے پہلے ایک ہزار دنوں کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی اور اسے بچوں اور پاکستان کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم قرار دیا۔ سکیلنگ اپ نیوٹریشن (SUN) مومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر ارشاد دانش نے حکومت سے پرزور سفارش کی کہ آئین میں خوراک اور غذائی تحفظ کو بنیادی حق کا درجہ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس سنگین مسئلے کو ایک قومی ہنگامی صورتحال کے طور پر لیا جانا چاہیے۔ کانفرنس کے دوران نامور فنکاروں اور میڈیا شخصیات بشمول ثروت گیلانی اور ستیش آنند نے بھی شرکت کی اور اس بات پر زور دیا کہ غذائی قلت کا خاتمہ محض خوراک کی فراہمی نہیں بلکہ صحت، تعلیم اور خواتین کو بااختیار بنانے سے جڑا ہوا ہے، اور اس اجتماعی ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے میڈیا اور مؤثر مارکیٹنگ کا بھرپور استعمال کرنا ہوگا۔