LIVE
Loading Breaking News...

ایران کا آبنائے ہرمز میں نئی بارودی سرنگیں بچھانے کا دعویٰ

News Image
ایران نے آبنائے ہرمز میں نئی سمندری بارودی سرنگیں بچھانے کا دعویٰ کیا ہے جس سے خطے میں تجارتی جہاز رانی کے حوالے سے کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اس پیش رفت نے بین الاقوامی بحری راستوں کی سلامتی پر ایک بار پھر گہرے خدشات کو جنم دیا ہے۔
تہران کی جانب سے ایک انتہائی اہم اور حساس بیان سامنے آیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں نئی سمندری بارودی سرنگیں بچھا دی گئی ہیں۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں بین الاقوامی بحری راستوں کی سکیورٹی اور تجارتی جہاز رانی کو پہلے ہی شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ مبصرین کے مطابق، اس پیش رفت سے عالمی منڈی میں توانائی کی سپلائی اور تیل بردار بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر براہ راست اثر پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب، امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ حال ہی میں امریکی بحریہ کے ایک مشن نے آبنائے ہرمز کے جہاز رانی کے راستوں سے بارودی سرنگیں صاف کرنے کے لیے خطرناک آپریشنز سرانجام دیے تھے، تاہم بین الاقوامی میری ٹائم تنظیموں کا ماننا ہے کہ صرف اتنے اقدامات سے حالات معمول پر لانے کے لیے کافی نہیں ہیں۔ اس تنازع کے دوران دونوں اطراف سے لفظی جنگ بھی جاری ہے اور تہران کی جانب سے مبینہ طور پر اس حوالے سے طنزیہ پیغامات بھی سامنے آئے ہیں۔ بین الاقوامی جہاز رانی کی تنظیم انٹرٹینکُو (INTERTANKO) نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں موجودہ خطرات کے پیش نظر تجارتی جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے مزید وسیع اور سنجیدہ بین الاقوامی کوششوں کی ضرورت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹریٹجک اہمیت کے حامل اس بحری راستے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت بالخصوص تیل کی قیمتوں پر انتہائی منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ عالمی برادری اس بحران کے حل کے لیے سفارتی سطح پر سرگرم ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔