LIVE
Loading Breaking News...

طاقتور ایل نینو کی آمد: عالمی اداروں کی ممالک کو ہنگامی تیاری کی تنبیہ

News Image
اقوام متحدہ اور عالمی ماہرین موسمیات نے دنیا بھر کے ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایک طاقتور اور ریکارڈ ساز ایل نینو کے اثرات کے لیے تیاری مکمل کر لیں۔ اس موسمی رجحان کے سال 2027 تک برقرار رہنے کا قوی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
بین الاقوامی موسمیاتی اداروں اور فورکاسٹرز نے دنیا بھر کی حکومتوں کو ایک سخت ترین تنبیہ جاری کی ہے کہ وہ ایک انتہائی طاقتور اور طاقتور ترین ایل نینو (El Nino) کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر تیار رہیں۔ اقوام متحدہ اور عالمی موسمیاتی تنظیم (WMO) کی جانب سے جاری کردہ حالیہ رپورٹس میں اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ آنے والا یہ موسمی رجحان معمول سے ہٹ کر انتہائی شدید نوعیت کا ہو سکتا ہے جسے ماہرین نے سپر سائزڈ ایل نینو کا نام بھی دیا ہے۔ یہ صورتحال دنیا بھر میں زرعی پیداوار، خوراک کی سیکیورٹی اور کرہ ارض کے درجہ حرارت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (WMO) کے تازہ ترین اپ ڈیٹس کے مطابق، یہ ایل نینو نہ صرف مزید شدت اختیار کرے گا بلکہ اس کے اثرات کے سال 2027 تک طویل عرصے تک برقرار رہنے کی توقع ہے۔ سائنسدانوں اور ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ہماری آنکھوں کے سامنے ایک غیر معمولی رفتار سے بڑا ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے دنیا بھر کے خطوں میں شدید گرمی کی لہریں، طوفانی بارشیں اور خشک سالی کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ ترقی پذیر اور ترقی یافتہ دونوں ممالک کو اس بارے میں پیشگی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ ممکنہ انسانی اور معاشی نقصانات کو کم سے کم رکھا جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس موسمیاتی تبدیلی کے اثرات صرف مخصوص خطوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سطح پر آب و ہوا کے نظام کو درہم برہم کر سکتے ہیں۔ ساحلی علاقوں میں سیلاب اور اندرونی حصوں میں پانی کی قلت جیسے مسائل شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ بین الاقوامی اداروں نے تمام متعلقہ حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے نظام کو متحرک کریں، قبل از وقت وارننگ کے نظام کو بہتر بنائیں اور خوراک کے ذخائر کو محفوظ رکھنے کے لیے ہنگامی اقدامات کریں تاکہ اس ممکنہ موسمی آفت کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کیا جا سکے۔