World
کوویت کا مؤقف: ایرانی حملے ملکی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں
کوویت نے حالیہ ایرانی حملوں کو اپنی قومی سلامتی اور استحکام کے لیے ایک براہ راست خطرہ قرار دیا ہے۔ حکومت نے خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کوویت کی حکومت نے حالیہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے کیے جانے والے حملے ملک کی سلامتی اور علاقائی استحکام کے لیے ایک براہ راست خطرہ ہیں۔ کوویت کے اعلیٰ حکام نے موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں خلیجی خطے کے امن کو داؤ پر لگا رہی ہیں اور ان سے حالات مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔ حکومت نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لے اور خطے میں امن و امان کی بحالی کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ کوویت کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سکیورٹی کے امور پر پہلے ہی شدید تناؤ پایا جا رہا ہے اور مختلف ممالک کے درمیان سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ کوویت کے متعلقہ اداروں نے ملکی سرحدوں اور اہم تنصیبات کی سکیورٹی کو مزید سخت کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ناگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔ حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ کوویت اپنی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور خطے میں کسی بھی قسم کی جارحیت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، خلیجی ممالک کی طرف سے اس نوعیت کے بیانات خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سکیورٹی خدشات کی عکاسی کرتے ہیں، جن سے آنے والے دنوں میں سفارتی اور عسکری سطح پر اہم تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔ کوویت کی قیادت خطے میں امن کے قیام کے لیے مسلسل سفارتی رابطے بھی کر رہی ہے تاکہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔