LIVE
Loading Breaking News...

سور کے گردے کی پیوند کاری کا ریکارڈ، امریکی مریض نو ماہ زندہ رہا

News Image
امریکہ میں ایک شخص نے سور کے گردے کی پیوند کاری کے ساتھ ریکارڈ 271 دن یعنی نو ماہ تک کامیابی سے زندگی گزاری ہے۔ یہ طبی تاریخ میں جانوروں سے انسانوں میں اعضاء کی منتقلی کے میدان میں ایک بڑی پیش رفت ہے۔
امریکہ میں طبی سائنس کی تاریخ میں ایک نیا سنگ میل عبور کر لیا گیا ہے جہاں ایک شخص نے سور کے گردے کی پیوند کاری کے ساتھ ریکارڈ 271 دن یعنی پورے نو ماہ تک کامیابی سے زندگی گزاری ہے۔ یہ طبی دنیا کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے کیونکہ انسانی اعضاء کی کمی کو پورا کرنے کے لیے جانوروں کے اعضاء کے استعمال پر طویل عرصے سے تحقیق کی جا رہی تھی۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ یہ تجربہ مستقبل میں ہزاروں ایسے مریضوں کے لیے زندگی کی نئی امید بن سکتا ہے جو انسانی اعضاء کے عطیات کے انتظار میں اپنی زندگی کی جنگ ہار جاتے ہیں۔ اس تاریخی طریقہ علاج کے دوران ڈاکٹروں نے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ سور کا گردہ ایک انسانی مریض میں پیوند کیا تھا۔ مریض کے جسم نے اس غیر ملکی عضو کو قبول کیا اور یہ ریکارڈ مدت تک بغیر کسی بڑے ناکامی کے اپنے فرائض انجام دیتا رہا۔ طبی ماہرین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کس طرح جانوروں کے اعضاء کو انسانی جسم میں طویل عرصے تک بغیر کسی ردِ عمل کے کام کرنے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔ اس کامیابی کے بعد دنیا بھر کے سائنسدانوں میں ایک نئی امید پیدا ہوئی ہے کہ زینو ٹرانسپلانٹیشن یعنی حیوانات سے انسانوں میں اعضاء کی منتقلی کا شعبہ آنے والے برسوں میں لاکھوں زندگیاں بچانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس سے قبل جانوروں کے اعضاء کی انسانوں میں منتقلی کے بعد شدید ردِ عمل اور انفیکشن کے خطرات زیادہ ہوتے تھے، لیکن جدید جینیاتی ٹیکنالوجی کی مدد سے ان خطرات پر قابو پانے میں نمایاں مدد ملی ہے۔ طبی محققین اب اس مزید تحقیق میں مصروف ہیں کہ اس عمل کو کس طرح مزید محفوظ اور پائیدار بنایا جائے تاکہ عام مریضوں کے لیے بھی اسے قابلِ رسائی بنایا جا سکے۔