AI
مصنوعی ذہانت کے طبی نوٹس لینے والے ٹولز پر اہم طبی تحقیق سامنے آگئی
نئی طبی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ ڈاکٹروں اور مریضوں کے درمیان مشاورتی سیشن ریکارڈ کرنے والے مصنوعی ذہانت کے ٹولز اہم معلومات چھوڑ سکتے ہیں۔ یہ اے آئی سسٹمز مریضوں کے چہرے کے تاثرات اور جذباتی کیفیات کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔
نئی سائنسی تحقیقات نے طبی شعبے میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال کے حوالے سے اہم خدشات کو جنم دیا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ وہ اے آئی ٹولز جو جنرل پریکٹیشنرز (جی پیز) کے لیے مریضوں کی مشاورت اور بات چیت کو ریکارڈ کرتے ہیں، طبی عمل کے دوران بہت سی اہم معلومات سے محروم رہ سکتے ہیں۔ یہ ٹولز اگرچہ ڈاکٹروں کا کاغذی کام کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں، تاہم یہ مریض کی اصل صحت کی حالت کا مکمل احاطہ کرنے میں ناکام ہیں۔
محققین کے مطابق، یہ ریکارڈنگ سسٹمز صرف بولے جانے والے الفاظ کو تو نوٹ کر سکتے ہیں لیکن مریض کے چہرے کے تاثرات، جسمانی زبان اور ان کی اندرونی جذباتی کیفیت کو سمجھنے یا ریکارڈ کرنے سے قاصر ہیں۔ طبی معائنے کے دوران ڈاکٹر اور مریض کے درمیان ہونے والی نان وربل کمیونیکیشن یعنی غیر زبانی مواصلت تشخیص میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے، جسے موجودہ اے آئی ٹولز نظر انداز کر دیتے ہیں۔
ماہرین نے زور دیا ہے کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور طبی نظام میں اس کا نفاذ بھی بڑھ رہا ہے، لیکن اسے مکمل طور پر انسانی ڈاکٹروں کے متبادل کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ ڈاکٹروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ خود مریض کے جذبات اور کیفیات کو مدنظر رکھیں تاکہ کوئی بھی اہم طبی علامت یا تشخیص نظر انداز نہ ہو۔
اس تحقیق کے بعد طبی ماہرین اور اے آئی ڈویلپرز کے درمیان اس بات پر بحث شروع ہو گئی ہے کہ ان سسٹمز کو مزید بہتر بنایا جائے تاکہ وہ صرف آڈیو ریکارڈنگ تک محدود نہ رہیں بلکہ مریض کی مجموعی صحت اور کیفیات کو بھی بہتر طریقے سے سمجھ سکیں۔ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو مزید محفوظ اور جامع بنانے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔