Technology
ٹرمپ کی اے آئی ویڈیوز: میمز یا نفسیاتی جنگ؟
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیوز کا استعمال حالیہ مہینوں میں تیزی سے بڑھ گیا ہے۔ ان ویڈیوز میں فرضی فوجی حملوں اور دیگر مناظر کو پیش کیا جا رہا ہے جس پر ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
واشنگٹن: امریکی سیاست میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے اور اس حوالے سے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سرگرمیاں بالخصوص توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ حالیہ چند مہینوں کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے اے آئی کی مدد سے تیار کردہ ایسے مواد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے جس میں فرضی فوجی حملوں اور دیگر غیر حقیقی مناظر کو انتہائی ہنر مندی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اس طرح کی ویڈیوز نے جہاں ایک طرف عام صارفین کو حیرت میں ڈالا ہے وہیں دوسری طرف سیاسی تجزیہ کاروں اور ڈیجیٹل سکیورٹی کے ماہرین کے درمیان ایک طویل بحث کا آغاز کر دیا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے ڈیجیٹل طور پر ہیرا پھیری شدہ مواد کا مقصد صرف سیاسی حریفوں پر سبقت حاصل کرنا نہیں بلکہ ووٹرز کی نفسیات پر براہ راست اثر انداز ہونا ہے۔ فرضی فوجی کارروائیوں اور طاقت کے مظاہرے کو اے آئی کے ذریعے حقیقت کے روپ میں دکھانا دراصل عوام کے جذبات کو اپنے حق میں موڑنے کا ایک خطرناک ہتھکنڈا ہو سکتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی ویڈیوز کو محض عام میمز یا انٹرٹینمنٹ کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ حقیقت اور فکشن کے درمیان لکیر کو دھندلا رہی ہیں جس کے جمہوری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کا موقف ہے کہ یہ تمام مواد محض سیاسی اظہارِ خیال کی ایک جدید شکل اور ہلکے پھلکے انداز میں کی جانے والی عکاسی ہے جسے لفظی معنوں میں نہیں لینا چاہیے۔ ان کا اصرار ہے کہ سوشل میڈیا کے اس دور میں ووٹرز تک اپنا پیغام پہنچانے کے لیے روایتی طریقوں کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے۔ تاہم اس تمام صورتحال کے بعد یہ سوال بدستور اپنی جگہ موجود ہے کہ آیا یہ ڈیجیٹل مواد مستقبل کے انتخابی میدان میں ایک نئی قسم کی نفسیاتی جنگ کی بنیاد رکھ رہا ہے یا نہیں۔